McConnell Meets Afghan Leaders, Seeks Delay in Troop Withdrawal

واشنگٹن: امریکی سینیٹ ری پبلکن لیڈر مش میک کونیل نے جمعرات کے روز صدر افغانستان اشرف غنی ، قومی مفاہمت اعلیٰ کونسل کے چیرمین عبداللہ عبداللہ اور دیگر افغان رہنماؤں سے ،جو صدر کے دوروزہ افغانستان کے دورے پر ان کے ہمراہ آئے ہیں، ملاقات کی ۔

کیپٹل میں صدر غنی سے ملاقات میں میک کونیل نے کہا کہ انہیںامید ہے کہ صدر جو بائیڈن افغانستان سے فوج واپس بلانے میں جلد بازی نہیں کریں گے اور صبر سے کام لیں گے ۔ صدر بائیڈن کا امریکی فوجوں کی واپسی کے فیصلے سے ان کے افغان حلیف ان خطرات سے نمٹنے کے لیے جن کا خود ان کے اعلیٰ مشیروں نے اعتراف کیا ہے اور جو نہایت سنگین اور بدترین ہوتے جارہے ہیں ،تنہا پڑ جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری واپسی سے تقویت پانے والے طالبان برسوں سے جاری پیش رفت پر ، خاص طور پر افغان خواتین کے حقوق بحال کرنے پر افغانستان پر اپنا تسلط قائم کرنے کے لیے پانی پھیر دیں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو اشارے مل رہے ہیں ان سے یہی پتہ چلتا ہے کہ جیسے ہی امریکی فوجوں کی مکمل طور پر واپسی ہوگی سارے کیے کرائے کو یہ طالبان ملیا میٹ کردیں گے۔انہوں نے کہا کہ صدر غنی اور افغان عوام کا متعجب ہونا بجا ہے کہ آخر بائیڈن ایڈمنسٹریشن نے افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ بند کرنا اور دہشت گردی کے اور بھی زیادہ خطرات پیدا کرنے کی راہ کیوں اختیار کی۔

انہوں نے یہ کہتے ہوئے اپنی بات مکمل کی کہ صدر غنی اور افغان عوام جانتے ہیں کہ دہشت گردی اور ظلم و استبداد سے جو خطرات انہیں لاحق ہیں وہ ابھی جوں کے توں ہیں۔ افغان وفد نے اینیٹ خارجہ تعلقات کمیٹی کے اہم رکن امریکی سنیٹر جم ریشک سے بھی ملاقات کی۔