Afghans will have to decide their future themselves after foreign troops withdrawal: says Biden

واشنگٹن:صدر امریکہ جو بائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں افغان صدر اشرف غنی اور ان کے سابق سیاسی حریف عبد اللہ عبداللہ سے ملاقات کے دوران افغانوں سے کہا کہ ’افغانستان کے لوگوں کو اب اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا ہو گا کیونکہ امریکی اور ناٹو افواج 11 ستمبر کو افغانستان سے چلی جائیں گی ۔لیکن جو بائیڈن نے یہ کہنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ امریکہ افغانستان سے مسلسل تعاون کا وعدہ کرتاہے۔

بایڈن نے غنی اور عبداللہ سے ملاقات کے دوران انہیں دو دیرینہ دوست کہتے ہوئے کہا کہ فوج کی واپسی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ امریکہ افغانستان کو بے یارو مددگار چھوڑ دے گا بلکہ امریکہ افغانستان کی مدد اور حمایت جاری رکھے گا ۔تاہم مستقبل کا فیصلہ خود افغانیوں کو کرنا پڑے گا کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ وحشیانہ اور بے مطلب تشدد بند ہونا چاہئے۔واضح رہے کہ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب طالبان جنگجوؤں نے ایک حالیہ جھڑپ میں افغانستان کے درجن بھر اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے۔

اقوام متحدہ نے بھی طالبان کی جانب سے اس پیش قدمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اشرف غنی نے کہا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر جو بائیڈن سے ملاقات کے دوران امریکی فوجوں کی واپسی میں تاخیر کا مطالبہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر جو بائیڈن کا فیصلہ ایک تبدیلی کا فیصلہ تھا، جس کے دونوں اطراف کے دوررس نتائج برآمد ہوں گے۔ تاہم بائیڈن نے ان پر یہ واضح کردیا ہے کہ امریکہ افغانستان کو سلامتی اور انسانیت پرمبنی امداد فراہم کرتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ افغان سیکورٹی فورسز نے جنوبی اور شمالی افغانستان میں طالبان کے زیر قبضہ متعدد اضلاع پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے نیز حکومت نے طالبان سے جنگ بندی اور سیاسی عمل میں واپس آنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو امریکی افواج کے انخلا کے بعد سامنے آنے والے نتائج کی روشنی میں کارروائی کرنے کی ضرورت ہے اور ملک کے عوام کو اس چیلنج کے لئے تیار رہنا ہوگا ۔