Five Districts Fall to Taliban

کابل: یہاں موصول اطلاع کے مطابق طالبان نے پانچ اضلاع پر اپنا تسلط قائم کر لیا ہے۔ جس سے خطرناک صورت حال کی پیچیدگی مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ طالبان کا جن پانچ اضلاع پر تازہ قبضہ ہوا ہے وہ بلخ میں شور تھپا، میدان وردک میں چک اور سید آباد، تخار میں رستق اور قندھار میں ارغستان ہیں۔

تخار کے ارامیک پارلیماں نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں رستق طالبان کے قبضہ میں جانے والا شمال مشرقی صوبہ کا 13واں ضلع ہے ۔تخار کئے ایک ممبر پارلیمنٹ حمید الدین یلداش نے کہا کہ شیر خان سرحد اب پوری طرح سے طالبان کے کنٹرول میں ہے۔ موصول اطلاعات سے نشاندہی ہوتی ہے کہ اقینہ سرحدی شہر پر بھی طالبان کا قبضہ ہو چکا ہے اور دشت قلہ ضلع میں تاجکستان سرحد سے متصل اے خانم شہر کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ اور وہ بھی طالبان کے قبضہ میں جا سکتا ہے۔

شمال، جنوب اور مغرب میں جنگی نوعیت سے اہم اضلاع پر طالبان کے قبضہ یہ خدشات پیدا ہو گئے ہیں کہ اب طالبان ملک کی آمدنی کا ذریعہ بننے والے خطہ بشمول کندوز میں شیر خان طالبان کی دراندازی ممکن ہو جائے گی۔کندوز کی صوبائی کونسل نے کہاہے کہ شیر خان کی آمدنی سے محرومی سخت باعث تشویش ہے اور ساتھ ہی انتباہ دیا کہ اس سے اب تخار میں دیگر سرحدی اضلاع یعنی فریاب میں اقینہ سرحدی شہر اور تخار میں اے خانم کے لیے بھی خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔