Pak PM Imran Khan special advisor traveled to Israel to meet Mossad chief ?

نئی دہلی: پاکستان کی سیاست میں اس وقت زبردست بھونچال آگیا جب ایک ابر پھر یہ خبر یا افواہ گردش کرنے لگی کہ وزیر اعظم عمران خان کے ایک مشیر نے امریکہ سے منظوری ملنے کے بعد نومبر 2020میں تل ابیب ہوائی اڈے پر اسرائیلی عہدیداروں سے ملاقات کی تھی۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایک نامعلوم مشیر کو برطانوی پاسپورٹ پر اسرائیل کی وزارت خارجہ لے جایا گیا جہاں اس نے کئی سیاسی رہنماؤں اور سفارتکاروں سے ملاقات کی اور پاکستانی وزیر اعظم کا پیغام تھمایا۔چونکہ ذوالفقار عباس بخاری بھی برطانوی شہری ہیں اس لیے سوشل میڈیا پر اس رپورٹ میں ان کا ہی حوالہ دیا جانے لگا۔

لیکن آج عبرانی روزنامہ ’اسرائیل ہیوم‘ نے اسلام آباد کے ایک نامعلوم ذریعہ کے حوالے سے اس مبینہ دورے کی خبر شائع کر دی۔اخبار قمطراز ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم کے خصوصی مشیر زلفی بخاری نے گذشتہ سال نومبر میں اسرائیل
کا دورہ کیا تھا جہاں بخاری نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ سے ملاقات کی تھی۔ اخبار نے مزید لکھا کہ دونوں عہدیداروں کے درمیان ایسے وقت میں ملاقات ہوئی تھی جب خود عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی جانب پیش رفت کر رہے تھے اور متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال ہونے کے بعد بحرین، مراکش اور سویڈن نے بھی اسرائیل سے سفارتی رشتے قائم کر لیے تھے۔

جس پر عمران خان نے کہا تھا کہ اس عرب ملکوں کے اس اقدام کے بعد پاکستان پر بھی اسرائیل سے رشتے قائم کرنے اور اسے تسلیم کرلینے کا سخت دباؤ ڈالا جا رہا ہے لیکن ان کی حکومت نے فی الحال اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے اور کہہ دیا ہے کہ اسرائیل کو اس وقت تک تسلیم نہیں کیا جائے گا جب تک کہ برسوں پرانا فلسطینی مسئلہ طے نہیں پا جاتا۔