Rajnath Singh inaugurates 3 bridges near Indo-China border in Uttarakhand

نئی دہلی: سرکاری ذرائع کے مطابق وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اپنے تین روزہ دورہ لداخ کے دوران بارڈر روڈ آرگنائزیشن (بی آر او) کے تحت چلائے جارہے 63بنیادی ڈھانچے پراجکٹوں کا ورچوئل افتتاح کیا۔ جس میں اتراکھنڈ کے پتھور گڑھ ضلع کے دھار چولہ میں ہند چین سرحد کے قریب تین پل بھی شامل ہیں۔ راج ناتھ لداخ کے کے لیہہ میں تھکسے مونسٹی لائبریری گئے اور وہاں لائبریری کا افتتاح بھی کیا۔وہاں انہوں نے ایک کتاب ’تصور روحانیت‘دیکھی اور کہا کہ یہ کتاب اس قدر عظیم ہے کہ میرے پاس اس پر تبصرہ کرنے کے الفاظ نہیں ہیں۔

وزیر دفاع نے لداخ پہنچتے ہی لداخ کے کارو ملٹری اسٹیشن میں ہندوستانی فوج کے 14 کور کے افسران اور جوانوں سے ملاقات کر کے ان کئی دفاعی امورکے حوالے سے بات چیت کی۔ اس موقع پر راج ناتھ سنگھ کے ہمراہ فوجی سربراہ جنرل منوج مکند نروانے بھی تھے۔ ان کے وہاں پہنچتے ہی فضا ” واہے گروجی کا خالصہ،واہے گروجی کی فتح‘ سے گونج اٹھی۔اس موقع پر انہوں نے ان بہادر جوانوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ، جنہوں نے ملک کی خدمت میں اپنی جانیں نچھاور کیں۔ 2020 میں گلوان وادی کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ملک ان جوانوں عظیم قربانی کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔ انہوں نے واقعہ کے دوران ہندوستانی فوج کی طرف سے دکھائے جانے والی مثالی جرات کی تعریف کی اور کہا کہ قوم کو اپنی مسلح افواج پر فخر ہے۔

راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ہندوستان ایک امن پسند قوم ہے ، جو کبھی بھی کسی بھی قسم کی جارحیت کا سہارا نہیں لیتی ، لیکن ساتھ ہی ساتھ اشتعال انگیزی کی صورت میں موزوں جواب دینے کے لئے بھی ہمیشہ تیار رہتا ہے۔ انہوں نے پڑوسی ممالک کے ساتھ بات چیت کے ذریعہ تنازعات کے حل کے حکومتی موقف کا اعادہ کیا۔ تاہم یہ یقین دلایا کہ کسی بھی قیمت پر قوم کی حفاظت اور سلامتی سے سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کے دورے کے دوران وزیر دفاع کی توجہ کا اصل مرکز بارڈر روڈ آرگنائزیشن (بی آر او) بنیادی ڈھانچہ پروگرام رہا۔ وزیر دفاع نے اس پراجکٹ کے تحت سڑکوں اور پلوں کا افتتاح کیا۔ واضح ہو کہ 9ماہ کے فوجی تعطل کے بعد ہندوستان اور چین کی فوجوں کی واپسی کے بعد وزیر دفاع کا یہ پہلا دورہ مشرقی لداخ ہے۔