Twitter drops incorrect India map

نئی دہلی: ٹویٹر نے اپنی ویب سائٹ سے جموں و کشمیر اور لداخ کو الگ الگ ممالک دکھایا جانے والا ہندوستان کا غلط نقشہ ٹویٹر سے ہٹا دیا ہے۔

واضح ہو کہ ٹویٹر نے جموں وکشمیر اور لداخ کو ہندوستان کے نقشے سے باہر دکھایا تھا جس پر زبردست عوامی احتجاج دیکھنے میں آیا اور ہر طرف سےسوشل میڈیا پلیٹ فارم کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا جانے لگا ۔چونکہ یہ ایک فاش غلطی تھی اور حکومتی ذرائع کی جانب سے بھی سخت کارروائی کا انتباہ دیاگیا تھا ۔

اس لیے ٹویٹر نے فوراً ہی یہ متنازعہ اور گمراہ کن نقشہ ہٹا دیا۔ حکومتی ذرائع نے کہا تھا کہ ملک کے نقشہ کے ساتھ کھلواڑ کرنا اور اسے توڑ مروڑ کر پیش کرنا سخت جرم ہے۔

ٹوئیٹر کو مالی ہرجانہ ، اس کے عہدیداروں کو سات سال قید اور یہاں تک کہ انفارمیشن ٹکنالوجی ضوابط کی دفعہ69اے کے تحت بلاک کردینے تک کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔یہ نقشہ ٹویٹر کے “ٹویپ لائف” سیکشن کے تحت سامنے آیا ، ایک ٹویٹر صارف نے مسخ شدہ نقشے کی طرف توجہ مبذول کروائی جس پر لوگوں کا شدید رد عمل دیکھنے میں آیا۔