US Wants to See Taliban Return to Afghan Peace Process: Pentagon

واشنگٹن: امریکی وزارت دفاع نے طالبان کو اس امر کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہ افغانستان میں تشدد اپنے عروج پر ہے، تلقین کی ہے کہ وہ امن مذاکرات میں واپس آجائیں۔ پنٹاگون کے ترجمان جان کربی نے منگل کے روا یک پریس بریفنگ میں کہا کہ ہم صرف یہ دیکھنا چاہتے ہیں اور دیکھنا پسند کریں گے کہ طالبان معتبر طریقہ اور پورے خلوص کے ساتھ امن عمل میں واپس آجائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میرے خیال میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ آج اس سے پہلے جنرل ملر بھی اس موضوع پر بات کر چکے ہیں اور افغانستان کی سلامتی کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔طالبان کے حالیہ حملوں کا ذکر کرے ہوئے کربی نے کہا کہ ہم وہاں ہونے والے واقعات کو دیکھ رہے ہیں جس سے یقیناً امن عمل میں ان کی معتبر مساعی او ر مخلصانہ کوششوں پر سوال اٹھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب امریکی فوجی انخلا مکمل ہو جائے گا تو انہیں دفاعی شعبوں میں دو نئے مشن انجام دینا ہوں گے۔ ایک تو ہمیں اپنی سفارت کاری کے تحفظ کی ذمہ داری پوی کرنے کے لیے کابل میں اپنی تھوڑی مجوجدگی بقرار رکھنا ہو گی اور دوئم یہ کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات رکھنا ہوں گے۔ اس میدان میں صلاحیتوں اور قابلیت کے لیے ان کی ضرورتوں کے مطابق مدد کے لیے افغان فورسز کے ساتھ نئے دو طرفہ تعلقات قائم کرنا۔