Afghan forces repulses Taliban attack on a district in Hirat

کابل: صوبہ ہرات کے گورنر کے مطابق صوبہ کے غوریان ضلع پر طالبان کا حملہ پسپا کر دیا گیا۔ صوبائی گورنر عبد الصبور قانی نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب میں طالبان نے غوریان پر قبضہ کے لیے زبردست حملہ کیا لیکن مستعد افغان سلامتی دستوں نے اس چہار طرفہ حملہ کو پسپا کر دیا۔

انہوں نے بتایا کہ طالبان نے اس مغربی صوبہ کے مختلف علاقوں سے انتہاپسندوں کو جمع کیا اور ایک بڑے گروپ کی شکل میں ضلع پر ٹوٹ پڑے لیکن ضلع کے دفاع پر تعینات افغان فوجیوں نے منھ توڑ جواب دیتے ہوئے گروپ کو منتشر کر دیا اور طالبان اپنے کئی ساتھیوں کی لاشیںچھوڑ کر فرار ہو گئے۔قانی نے مزید کہا کہ اس حملہ میں سیکڑوں طالبان نے حصہ لیا لیکن وہ نہ صرف شکست کھا کر بھاگ گئے بلکہ ان کے 20انتہاپسند بھی مارے گئے۔

گورنرنے کہا کہ سلامتی دستوں نے طالبان کے ایک خود کش کار بمبار کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیا۔مقامی سلامتی ذرائع نے بتایا کہ اس جھڑپ میں 20سے زائد طالبان ہلاک اور 10سے زیادہ زخمی ہو گئے۔قبل ازیں بدھ کے روز افغان سلامتی دستوں نے پروان میں شنواری ضلع پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔

گذشتہ دو ماہ کے دوران طالبان نے 100سے زائد اضلاع پر قبضہ کر لیا لیکن گذشتہ چند روز کی کارروائی کے دوران حکومتی فورسز نے دس اضلاع پر دوبارہ کنٹرول کر لیا۔