Gilgit-Baltistan Court acquits woman of blasphemy

کوئٹہ :(اے یو ایس)گلگت بلتستان کی ایک عدالت نے توہین رسالت کے مقدمے میں قید خاتون کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا حکم دیا ہے۔اس خاتون ٹیچر کے خلاف 2019 میں مقدمہ درج کیا گیا تھا اور وہ اس وقت سے قید میں تھیں۔خاتون کے وکیل اسلام الدین ایڈووکیٹ کے مطابق مقدمہ دو سال سے زائد عرصے تک چلتا رہا جس دوران استغاثہ نے خاتون کے خلاف 13 شہادتیں پیش کی تھیں۔ عدالت نے گواہوں کے بیانات اور وکلا کی بحث کے بعد اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ استغاثہ اپنے کیس کے حق میں کوئی بھی ٹھوس ثبوت مہیا نہیں کر سکا ہے۔

اسلام الدین ایڈووکیٹ کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ استغاثہ نے تین عینی شاہد پیش کیے تھے جن میں سے دو نے عدالت میں دیے گئے بیان میں کہا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا تھا۔ جبکہ ایک گواہ کے بیان میں بہت زیادہ تضادات ہیں اور اس نے پولیس کے سامنے اور عدالت میں مختلف بیانات دیے ہیں۔درج مقدمے میں خاتون مدعی کی جانب سے الزام لگایا گیا تھا کہ خاتون نے پیغمبر اسلام سے متعلق نازیبا لفظ استعمال کیا تھا۔اس کے بعد پولیس نے تحقیقات کر کے خاتون کو گرفتار کر لیا تھا۔ خاتون عدالت اور پولیس کو دیے بیان میں خود پر عائد تمام الزامات کو مسترد کرتی آئی ہیں۔

اسلام الدین ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج ہونے سے پہلے خاتون ایک سکول میں پڑھا رہی تھیں۔ وہ دو کم عمر بچوں کی ماں اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتی ہیں۔ مقدمہ درج ہونے کے فوراً بعد ان کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔خاتون ٹیچر نے ڈھائی سال کا عرصہ جیل میں گزارا ہے۔ اس دوران وہ اپنے بچوں سے بھی نہیں مل پائیں کیوں کہ ان کے شوہر بچوں کو لے کر ان کے تحفظ اور تعلیم کے لیے کسی دوسرے جگہ منتقل ہوگئے تھے۔اسلام الدین ایڈووکیٹ کے مطابق اب خاتون بھی رہائی کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل ہو چکی ہیں۔ وکیل کے مطابق ان کی نفسیاتی اور جسمانی حالت ٹھیک نہیں ہے اور وہ بہت زیادہ خوف کا شکار ہیں۔یاد رہے کہ خاتون ٹیچر کے خلاف مقدمے اور گرفتاری پر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔