Eight including six children killed in shelling by Syrian government forces in Idlib

دمشق: (اے یوایس ) مغربی صوبہ ادلب میں ہفتہ کے روز شامی فوج کی گولہ باری میں چھ بچے سمیت آٹھ افراد ہلاک اور 16دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے ہفتہ کی صبح ادلب کے جنوب میں واقع علاقہ جبل الزاویہ میں متعدد دیہات پر شامی فوج کے ذریعہ کی گئی گولہ باری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایک گاؤں ابلین میں گولہ باری سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد مارے گئے ہیں۔ان میں میاں بیوی اور ان کے تین بچے ہیں۔

بالیون گاؤں میں گولہ باری سے دو بچے جاں بحق ہوئے ہیں۔ایک اور گاو¿ں بالشن میں ایک اور کم سن بچہ شامی فوج کی گولہ باری کی نذر ہوگیا ہے۔ادلب میں مارچ 2020 سے جاری جنگ بندی کے بعد ایک دن میں یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔تاہم شامی حکومت کے پشتیبان روس اور حزب اختلاف کے حامی ترکی کی ثالثی کے نتیجے میں طے شدہ اس جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔

شامی رصدگاہ کے مطابق گذشتہ ہفتوں کے دوران میں روس کے لڑاکا طیاروں نے ادلب کے جنوبی علاقوں میں بمباری کی ہے اوران فضائی حملوں کے ساتھ شامی فوج نے بھی گولہ باری کی ہے۔جنگ زدہ ملک میں 2011 کے اوائل میں صدر بشارالاسد کے خلاف احتجاجی مظاہروں سے شروع ہونے والی خانہ جنگی میں اب تک قریباً پانچ لاکھ افراد مارے جاچکے ہیں۔ان میں ایک تہائی عام شہری تھے۔