It Its Hamas obligation to make ceasefire durable : says ,Israeli Charge de affairs

نئی دہلی:(اے یو ایس) اسرائیل کے ناظم امور محترمہ رونی یہ دیدیا کلین نے کہا کہ سیز فائر کو پائیدار بنانے کی ذمہ داری حماس پر عائد ہے۔ اور ہمیں امید ہے کہ یہ لمبے عرصے تک قائم رہے گا۔ لیکن ساتھ ہی حماس کو متنبہ کیا کہ اگر انہوں نے کسی قسم کی خلاف ورزی کی تو اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے۔ایک بیان میں انہو ںنے کہا کہ اس وقت اسرائیل میں 28ہزار سے زیادہ فلسطینی کام کررہے ہیں اور ان کو کورونا ویکسین بھی دیاگیا ہے۔

محترمہ رونی نے کہا کہ ہمیں لگتا ہے کہ جنگ بندی زیادہ دیرنہیں رہے گی۔ محترمہ رونی نے کہا کہ اسرائیل حماس جنگ میں غزہ کی طرف سے ہی اسرائیلی علاقوں پر راکٹوں کی بوچھا ر ہوئی اور ہم نے صرف جوابی کارروائی کی۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے کئی سالوں میں اسرائیل نے سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کورہا کیا۔ حمص کے قبضے میں بھی چار اسرائیلی قیدی فوجی ہیں ان میں سے دو کے بارے میں یہ قیاس آرائی ہے کہ وہ فوت ہوگئے ہیں۔اور دو کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے حماس نے ریڈ کراس کے لوگوں نے بھی ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی۔جب ان سے کہاگیا کہ اسرائیل کیوں غزہ کے لئے امدادی سامان بھیجنے پر رکاوٹ ڈال رہی ہے۔

ناظم امور نے کہا کہ بین الاقوامی اداروں کی نگرانی میں امدادی سامان بدستور غزہ کے لوگوں کے لئے جارہا ہے یہ کوشش کی جارہی ہے کہ وہاں کے لوگوں کو خوراک اور دوائیوں کی کمی نہ ہو۔اسکولوں کے لئے بھی ساز وسامان بھیجا جارہا ہے یہ سارا کام اقوام متحدہ کے ریلیف ایجنسی کے ذریعہ ہورہا ہے لیکن ہماری اور مغربی ملکوں کی یہ کوشش ہے کہ امدادی سامان حماس کے ہاتھ نہ لگے۔ کیونکہ اسے اپنے اغراض ومقاصد کے لئے استعمال کرے گی۔ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات کے سلسلے میں ناظم الامور نے کہا کہ وہ دن بدن مستحکم ہوتے جارہے ہیں۔دونوں ممالک مختلف شعبوں میں اشتراک کررہے ہیں۔ کورونا وائرس ختم ہونے کے بعد سیاسی رہنماﺅں کے سرکاری دورے بھی شروع ہوجائیںگے۔