Mixed reaction on Mohan Bhagwat recent DNA statement

نئی دہلی:رایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے ڈی این اے والے بیان سے افق سیاست پر ایک ہلچل مچ گئی ہے۔ جہاں ایک طرف ہندو سنتوں کی سب سے بڑی تنظیم اکھاڑا پریشد نے اس کا خیر مقدم کیا تو خود آر ایس ایس میں اس کی مخالفت میں ڈھکے چھپے انداز اور بین السطور باتیں کی جارہی ہیں جبکہ بی جے پی کے کچھ لیڈروں نے کھل کر مخالفت کی تو کانگریس نے بھاگوت کے اس بیان میں صداقت اور ان کی دیانتداری کا امتحان لینے کے لیے خود بھاگوت کو ہی چیلنج کر دیا۔ مسلمانوں کے ساتھ ہندوو¿ں کے رشتے پرر ایس ایس میں اکثر لیڈروں نے ڈھکے چھپے الفاظ میں مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گروجی گولوالکر کے دور میں ہندوتوو کے حوالے سے راشٹریہ سیوک سنگھ کا نظریہ اس سے قطعی مختلف رہا ہے۔دوسری جانب ہندو سنتوں کی سب سے بڑی تنظیم آل انڈیا اکھاڑا پریشد نے حمایت کی ہے۔

اکھاڑا پریشد کے صدر مہنت نریندر گیری نے کہا ہے کہ یہ سچ ہے کہ ملک میں بسنے والے ہندوؤں کے ساتھ مسلمانوں اور عیسائیوں کا ڈی این اے بھی ایک ہی ہے۔ انہوں نے نام نہاد تبدیلی مذہب کی شق چھیڑتے ہوئے الزام لگایا کہ کچھ لوگوں نے لالچ اور دباؤ میں آکر ہندو مذہب ترک کر کے مبینہ طور پر اسلام اور مسیحی مذہب قبول کرلیاہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہندوستان میں بسنے والے تمام مسلمان اور عیسائیوں کے آبا و اجداد پہلے ہندو تھے۔ نیز آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کی جانب سے ہجومی تشدد کے واقعات پر دیے گئے بیان کی بھی حمایت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موب لنچنگ کے واقعات کو درست ثابت کرنے کے لیے کسی بھی طرح جواز فراہم نہیں کیا جاسکتا۔ مہنت نریندر گیری نے کہا کہ گائے ہماری ’ماتا‘ ہے اور ہمیشہ رہے گی، لیکن اس کے باوجود گائے کے ذبیحہ کے نام پر ماب لنچنگ کرنا درست نہیں ہے۔ لیکن اس کے برعکس آر ایس ایس کی ہی قریبی جماعت بی جے پی کے شعلہ بیاں لیڈر گیان دیو آہوجا نے اس پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایک بار پھر متنازعہ بیان دے کر سنسنی پھیلا دی۔

گیان دیو آہوجہ نے کہا ہے کہ مسلم سماج کے لوگ اب ہمارے بھائی نہیں رہے،اب ہندوو¿ں کو ’شاستر‘ کے ساتھ ہتھیار بھی اٹھانا پڑے گا۔ الور کے رام گڑھ تھانہ علاقہ میں ایک 12 سالہ نابالغ کی آبروریزی کے معاملہ میں گیان دیو آہوجا متاثرہ سے ملنے پہنچے تھے۔ اس دوران انہوں نے 25 جولائی کو بہادر پور میں ہتھیار کے ساتھ ریلی نکالنے کا اعلان بھی کیا ہے۔اجتماعی ا جنسی زیادتی کی شکار بچی کے اہل خانہ سے ملنے کے بعد گیان دیو نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہندو تنظیموں کو شاستر کے ساتھ ساتھ ہتھیار بھی اٹھانا ہوگا، کیونکہ خاص مذہب (مسلمانوں)کے لوگ ہماری ہندو بیٹیوں کے ساتھ آئے روز ظلم وزیادتی اور جنسی زیادتی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متا ثرہ کے والد کو مالی لالچ دے کر چپی سادھے رہنے کا دباو¿ بنایا گیا۔ نہ ماننے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں، اس لیے اب ہمیں اخلاقیات کے ساتھ ساتھ ’ہتھیار ‘بھی اٹھانے ہوں گے۔ دریں اثنا کانگریس کے سینئر رہنما دگ وجے سنگھ نے موہن بھاگوت کے اس بیان پر رد عمل کا اظہار کیاہے اور کہا ہے کہ اگر آر ایس ایس سربراہ اپنے خیالات میں و اقعی مخلص ہیں تو وہ پہلے ان لوگوں کو عہدے سے ہٹائیں جو مسلمانوں کوپریشان کرر ہے ہیں۔

دگ وجے سنگھ نے یہ بھی دعویٰ کیاہے کہ بھاگوت ایسا نہیں کریں گے کیوں کہ ان کے قول وعمل میں تضادہے۔اہم بات یہ ہے کہ اتوار کو مرکز کے ناک کے نیچے واقع اترپردیش کے شہر غازی آباد میں، جہاں وہ راشٹریہ مسلم منچ کے زیر اہتمام پروگرام میں خطاب کررہے تھے، بھاگوت نے کہاتھا کہ تمام بھارتیوں کاڈی این اے ایک جیسا ہے اور مسلمانوں کو اس بات پر خوفزدہ رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ ہندوستان میں اسلام کو خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو لوگ مسلمانوں کو ملک چھوڑنے کو کہتے ہیں وہ خود کو ہندو نہیں کہہ سکتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ لوگوں کو ان کی عبادت کے طریقے کی بنیاد پر تفریق نہیں کی جاسکتی۔نیز بلا شبہ گائے ایک مقدس جانور ہے لیکن جو اس کے نام پر دوسروں کا خون بہارہے ہیں وہ ہندوتوو کے خلاف ہیں۔بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایا وتی نے اس بیان پہر تبصرہ کرتے ہوئے اسے ”منھ میں رام بغل میں چھری“ سے تعبیر کیا۔آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے کہا کہ ماب لنچنگ ہندوتوو کی ہی دین ہے۔