Security forces killed at least 25 villagers in Myanmar

ینگون:(اے یو ایس)میانمار کی سکیورٹی فورسز نے اس ہفتے کے اوائل میں ایک گاؤں پر فائرنگ کرکے کم از کم 25 افراد کو ہلاک کردیا۔ ایک مقامی باشندے کے مطابق فوجیوں نے ‘حرکت کرتی ہوئی دکھائی دینے والی ہر چیز کو گولی ماردی۔‘میانمار کے مقامی میڈیا اور عینی شاہدین کی رپورٹوں کے مطابق تشدد کا یہ واقعہ جمعے کے روز صوبے ساگینگ کے وسطی قصبے دیپائن میں پیش آیا۔مقامی میڈیا ایجنسی تھان لیون کھیت نیوز کے مطابق جمعے کے روز تقریباً 150فوجی دیپائن کے قریب واقع چھ گاؤں میں داخل ہوگئے۔ اس کے بعد سکیورٹی فورسز نے گاؤں والوں پر مبینہ طورپر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔

دیپائن کے ایک رہائشی نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا،” لوگ کھیتوں میں اور ریلوے لائن پر مردہ پڑے ہوئے تھے۔انہوں (فوجیوں) نے حرکت کرنے والی ہر چیز کو گولی ماردی۔”سکیورٹی فورسز نے علاقے میں فو ج کے خلاف سرگرم ایک مسلح اپوزیشن گروپ پیپلز ڈیفنس فورس(پی ڈی ایف) کی مبینہ موجود گی کی وجہ سے گاو¿ں کو نشانہ بنایا ہے۔پی ڈی ایف کے نوجوان اراکین علاقے میں فوج کی کارروائی کے خلاف ان سے جنگ لڑنے کے لیے گھریلو ساخت کے ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہیں۔ گاو¿ں والوں نے تلواروں اور گھروں میں تیار ہونے والے رائفلوں کا استعمال کیا لیکن وہ فوج کے جدید ہتھیاروں کا مقابلہ نہیں کرسکے۔

مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اس لڑائی کے بعد کم ازکم 25 لاشیں ملی ہیں۔میانمار کی فوج نے تشدد کے ان واقعات کے سلسلے میں اب تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ ایک سرکاری اخبار نے تاہم دعوی کیا ہے کہ ”مسلح دہشت گردوں” نے علاقے میں گشت پر مامور فوجیوں پر حملہ کردیا تھا۔میانمار میں رواں سال فروری سے ہی فوجی جنتا کی حکومت ہے۔ فوج نے اسٹیٹ کاو¿نسلر آنگ سان سوچی اور ان کی حکمران جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) کے دیگراراکین کو گرفتار کرنے کے بعد اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا۔فوج کی اس کارروائی کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئی۔

فوج نے مظاہروں پر قابو پانے کے لیے سخت کارروائی شروع کردی ہے۔ ایک غیر سرکاری تنظیم اے اے پی پی کے مطابق فوجی بغاوت کے بعد سے فوج کے خلاف مظاہروں میں اب تک 890 سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں جبکہ فوجی جنتا نے ہزاروں دیگر افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔اقوا م متحدہ کے مطابق ملک میں جاری تشدد کی وجہ سے اب تک دو لاکھ تیس ہزار سے زائد افراد کوا پنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔