Iran Iinvites Taliban delegation to Tehran to discuss peace talks

دوحہ(قطر): ایران نے طالبان سے دو طرفہ ملاقاتوں اور تبادلہ خیال کے لیے قطر میں مقیم سینیر طالبان مذاکرات کار شیر محمد عباس استانک زئی کی قیادت میں ایک طالبان وفد کو تہران مدعو کیا ہے۔ طالبان کے ایک ترجمان محمد نعیم نے اسکی اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ یہ وفد سابق نائب صدر یونس قانونی کی، جو کابل سے تہران روانہ ہو چکے ہیں، قیادت میں افغان سیاستدانوں سے بھی ملاقات کرے گا۔

کابل سے جانے والا یہ وفد سابق صدر حامد کرزئی کے سابق چیف آف اسٹاف کریم خرم، سابق صدر کرزئی کے سابق معتمد خاص ارشاد احمد، صدر اشرف غنی کے مشیر سلام رحیمی حزب وحدت پارٹی کے ظاہر وحدت اور جنبش پارٹی کے محمد اللہ بتاش سمیت کئی عہدیداران پر مشتمل ہے۔وفد اور ایران کے حکام بالا افغان امن مذاکرات کے حوالے سے تبادلہ خیال کریں گے۔

منگل کے روز قطر کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان مطلق بن ماجد ال قحطانی کابل پہنچ گئے جہاں انہوں نے سابق صدر حامد کرزئی سمیت کئی افغان سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کی اور اس پر تبادلہ خیال کیا کہ تعطل کے شکار دوحہ امن مذاکرات کے کیسے آگے بڑھایا جائے۔ توقع ہے کہ ال قحطانی افغان حکومت کے عہدیداروں سے بھی ملاقات کریں گے۔ا ل قحطانی کو دورہ افغانستان اس لیے کرنا پڑا کیونکہ طالبان کے حملوں میں غیر معمولی شدت آجانے کے باعث مذاکرات کے لیے عبد اللہ عبداللہ کی زیر قیادت آنے والے سیاستدانوں کے ایک وفد کا دورہ قطر ملتوی کر دیا گیا تھا۔