Fiery explosion aboard container ship at Dubai's Jebel Ali Port

دوبئی: متحدہ عرب امارات کے شہر دوبئی میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ایک بندرگاہ پر لنگر انداز کنٹینر جہاز میں زبردست د ھماکہ سے پورا دوبئی لرز اٹھا ۔ دنیا کی سب سے بڑی بندرگاہوں میں سے ایک جبل علی نام کی اس بندرگاہ پر لنگر انداز آئل کنٹینر میں ہوئے دھماکہ سے اگرچہ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی لیکن متحدہ عرب امارات کے تجارتی مرکز میں عمارتیں ضرور لرز گئیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس جہاز سے بلند ہوتے ہوئے آگ کے زبردست شعلے دکھائی دینے کے ساتھ ان پر قابو پانے کے لیے فائر ٹرک اور ایمرجنسی سروسز کی گاڑیاں بھی بندرگاہ کی جانب جاتے دیکھی گئی ہیں۔ حکومت کے قائم کردہ دبئی میڈیا آفس کے مطابق یہ دھماکہ بندرگاہ جبل علی میں اس کنٹینر میں اس وقت ہوا جب وہ ایک گودی میں لنگر انداز ہونے کی تیاری کر رہا تھا۔ یہ مشرق وسطیٰ میں جہاز رانی کے راستے میں سب سے بڑی بندرگاہ ہے۔

میڈیا دفتر کے مطابق کنٹینر میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور تاحال کسی ہلاکت یا زخمی شخص کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ دھماکے کا ابھی تک کوئی سبب معلوم نہیں ہوسکا۔میڈیا دفتر نے یہ بھی بتایا کہ دھماکہ اتنا طاقتور تھا کہ پورا دوبئی تھرا اٹھا اور بندرگاہ کے اطراف 25کلومیٹر کے دائرے کے اندر واقع عمارتیں لرز اٹھیں اور کھڑکیوں کے شیشے چٹخ گئے۔دوبئی پولس نے بتایا کہ جہاز پر لدے 130کنٹینروں میں سے تین میں آتش گیر مادے سے بھرے تین کنٹینر تھے اور جہاز پر 14جہاز رانوں پر مشتمل عملہ بھی تھا۔