Tajikistan calls for help after security deteriorated in northern Afghanistan

دوشنبہ: تاجکستان سے متصل شمالی افغانستان کے علاقوں میں طالبان اور افغان سلامتی دستوں میں خونریز جھڑپوں اور افغان فوجیوں کا ان حملوں سے بچنے کے لیے تاجکستان میں پناہ حاصل کرنے کے لیے تاجکستان میں فرار ہونے کے درمیان تاجکستان نے روسی قیادت والے فوجی بلاک سے اپیل کی ہے کہ پڑوسی ملک افغانستان سے اسے اپنی سلامتی کے جو خطرات لاحق ہیں ان سے نمٹنے کے لیے تاجکستان کی مدد کی جائے۔

تاجکستان میں ذرائع نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ روسی قیادت والی مشترکہ سلامتی معاہدہ تنظیم (سی ایس ٹی او) میں، جو وسطی ایشیائی ممالک قازقستان، تاجکستان اور کرگزستان پر مشتمل ہے، تاجکستان کے نمائندے نے اپنے حلیفوں سے مدد چاہی ہے۔تاجک نمائندہ حسن سلطانوف کے حوالے سے روسی خبر رساں ایجنسی آر آئی اے نے کہا کہ خطہ اور افغانستان سے متصل کچھ دور دراز علاقوں اور پہاڑی سلسلہ کی موجودہ صورت حال اس امر کی متقاضی ہے کہ ہماری مدد کی جائے کیونکہ اس درپیش خطرے سے تنہا اپنے بل پر نمٹنا ہمارے لیے محال ہے۔

واضح ہو کہ20سالہ جنگ کے بعد امریکہ اور ناٹو قیادت والی فوج کے افغانستان سے انخلا اور راتوں رات خاموشی کے ساتھ بگرام ایر بیس سے امریکی فوجوں کے کوچ کر جانے سے افغانستان کے حالات بہت بگڑ چکے ہیں اور قتل و غارت گری اور لوٹ مار کا ایک طویل سلسلہ چھڑ گیا ہے جس کی آنچ شمالی افغانستان سے متصل علاقوں تک پہنچنا شروع ہو گئی ہے جس سے ان علاقوں کی سرحدوں سے متصل ریاستوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔

حالیہ دنوں میں ہزاروں افغان فوجی طالبان جنگجوؤں کی پیش قدمی کے باعث اپنی جان بچانے کے لیے تاجکستان میں سیاسی پناہ حاصل کرنے فرار ہو چکے ہیں۔اور تاجکستان نے بھی بدخشاںمیں طالبان سے اپنا بچاؤ کرنے کے لیے تاجکستان میں داخل ہونے والے 1000سے زائد افغان فوجی و غیر فوجیوں کو اپنی سرزمین پر جگہ دے دی ہے۔