US admits its failure by withdrawing from Afghanistan: Lavrov

ماسکو: روس نے کہا ہے کہ امریکہ نے افغانستان سے مکمل فوجی انخلا کر کے اپنی ناکامی کا اعتراف کیا ہے ۔ اس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا کہ افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی اس امر کی غماز ہے کہ جنگ زدہ افغانستان میں 20سالہ موجودگی کے بعد امریکی پالیسیاں اور فوجی مشن ناکام ہو گیا۔لاروف نے فار ایسٹرن فیڈرل یونیورسٹی میں اپنے لیکچر کے دوران اس پر روشنی ڈالی کہ افغانستان میں دو عشروں تک امریکی فوج کی موجودگی میں کیا نئی تبدیلیاں رونما ہوئیں ۔

لاروف نے کہا کہ 2001میں جب سے کہ امریکہ اور اس کے حلیف ممالک نے افغانستا ن پر حملہ کیا دہشت گردی اور منشیات کا دھندہ ڈرامائی انداز میں دن دونی رات چوگنی ترقی کرتا گیا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ کے فوجی منشیات کے کاروبار میں ملوث ہیں اور اب داعش شمالی افغانستان میں اپنے انتہاپسند داخل کر رہا ہے جس سے خطہ میں روسی اتحادیوں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

امریکی فوجی انخلا پر روس کا یہ ردعمل سابق افغان صدر حامد کرزئی کے بی بی سی کو دیے گئے اس انٹرویو کے دوروز بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ 2001میں امریکی حملہ سے پہلے افغانستان میں ایک بھی دہشت گرد نہیں تھا۔دوسری جانب امریکہ بارہا اس امر کا اعادہ کرتا رہا ہے کہ افغانستان میں جس مقصد کے لیے اس نے فوجی مشن شروع کیا تھا اس میں وہ کامیاب ہو گیا ہے اور اب افغانستان چھوڑنے کا وقت آن پہنچا ہے۔