Britain announced 158 million pounds in aid to Afghanistan

لندن: برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے افغانستان سے برطانوی فوج کے مکمل انخلا کے حوالے سے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ فوجی انخلا کا مطلب یہ نہیں ہے کہ برطانیہ نے اس کی حمایت کرنا ہی ترک کر دی ہے۔لیکن اب فوجوں کی واپسی کا مطلب افغانستان میں امن و استحکام کے لیے اب فوجی اقدام کی جگہ سفارتی کوششیں کی جائیں گی۔

اراکین پارلیماں سے خطاب کرتے ہوئے جانسن نے کہا کہ برطانیہ ترقیاتی تعاون میں حکومت افغانستان کو 100ملین پاو¿نڈ اور افغان نیشنل ڈیفنس اینڈ سیکورٹی فورسز (اے این ڈی ایس ایف) کو 58ملین پاو¿نڈبطور امداددے گا۔وزیر اعظم بھی افغانستان میں پائیدار امن کے لیے علاقائی ممالک کے کردار کو سب سے اہم قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ برطانوی سفارت کار افغانستان اور پاکستان کے درمیان مضبوط تعلقات کے لیے ، جو نہایت اہمیت کے حامل ہیں، کوشش کریں گے۔

افغان مترجموں کا معاملہ بھی جانسن کی تقریر کا حصہ رہا۔ انہوں نے ان تمام افغانوں سے اظہار تشکر کیا جنہوں نے 20سال سے زائد عرصہ تک برطانیہ کے فوجی مشن میں اپنی خدمات پیش کیں۔ جانسن نے مزید کہا کہ افغان مترجمین کے1500 کنبوں کو برطانیہ لایا گیا ہے اور باقی افغانوں کو بھی لانے کا عمل جاری رہے گا۔جانسن نے کہا کہ اب افغانستان میں دہشت گردی کی جڑ نہیں ہے اور امریکی قیادت والی اتحادی فوج نے اس خطرے کو فنا کر دیا ہے۔