Delimitation Commission reaches Jammu on second leg of J&K visit, meets political parties

سری نگر: جموں و کشمیر کے اپنے چار روزہ دورے کے دوسرے مرحلہ میں جمعرات کے روز حد بندی کمیشن نے مرکز کے زیر انتظام علاقہ میں انتخابی حلقوں کی دوبارہ حد بندی کے حوالے سے تازہ معلومات جمع کرنے کے لیے درجنوں سیاسی رہنماؤں اور سول سوسائٹی گروپوں سے ملاقاتیں کیں۔

جسٹس (ریٹائرڈ ) محترمہ رنجنا پرکاش ڈیسائی کی قیادت میں کمیشن 6جولائی کو سری نگر پہنچا اور جموں روانگی سے پہلے مزید ایک روز وہاں قیام کیا۔سری نگر میں نیشنل کانفرنس ، پیپلز کانفرنس، ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی)، امرکسی کمیونسٹ پارٹی ( سی پی ایم)، پینتھرز پارٹی ، کانگریس ، بی جے پی، اپنی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے لیڈروں نے ہوٹل للت میں کمیشن سے ملاقات کی۔جموں میں بی جے پی ، کانگریس، نیشنل کانفرنس اور دیگر پارٹیوں نے کمیشن سے ملاقات کی اور آزاد صاف ستھرے حد بندی عمل کا مطالبہ کیا۔ ملاقات کے دوران سیاسی جماعتوں نے مجموعی طور پر جموں خطے کے ساتھ ماضی میں مبینہ امتیازی سلوک ختم کرنے اور جموں ڈوویژن میں اسمبلی نشستوں کی تعداد بڑھانے کی وکالت کی۔

کشمیر سے روانگی کے بعد کمیشن نے کل صبح ڈوڈہ میں سیاسی جماعتوں کے وفود کے ساتھ ملاقات کی۔ وفود میں کانگریس ، بی جے پی اور اپنی پارٹی کے لیڈران شامل رہے۔ملاقات کے بعد جموں و کشمیر کانگریس کے نائب صدر جی ایم سروری نے کہا کہ انہوں نے کمیشن سے درخواست کی کہ وہ علاقہ میں رقبے کے مطابق اسمبلی نشستوں کی ازسر نو حد بندی کرے۔ سروری نے کہا کہ انہوں نے چناب ویلی کے تین اضلاع ڈوڈہ ، کشتواڑ اور رام بن میں رقبے کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر ضلع میں مزید ایک اسمبلی نشست کو معرض وجود میں لانے کی سفارش کرے۔ تاکہ چناب خطے کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کو اسمبلی میں مناسب نمائندگی مل پائے۔

علاوہ ازیں کانگریس نے ایک میمورنڈم بھی دیا جس میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں حدبندی کا عمل اس وقت تک بے معنی ہوگا جب تک کہ اس کی ریاست کی حیثیت بحال نہیں کر دی جاتی۔ بی جے پی جموں و کشمیر کے صدر رویندر رینا کی سربراہی میں بی جے پی وفد نے پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں آنے والی 24اسمبلی سیٹوں پاک مقبوضہ کشمیر سے نقل مکانی کرنے والوں، کشمیری پنڈتوں اور شڈول کاسٹ و شڈول ٹرائبس کے لوگوں کے لیے محفوظ کرنے کا مطالبہ کیا۔