How to stop China's repression of Uighur muslims in Xinjiang

واشنگٹن:(اے یو ایس )امریکہ کے وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے چین کے ایغور مسلمانوں سے بذریعہ ویڈیو لنک گفتگو کی ہے جنہیں چین کے شمال مغربی صوبے سنکیانگ میں مبینہ طور پر کیمپوں میں رکھا گیا تھا۔منگل کو ہونے والی اس گفتگو کا مقصد چین کی اس مسلمان اقلیت پر گزرنے والے حالات سے آگاہی اور اس بارے میں مشورہ لینا تھا کہ چین پر اس کے جبر کو روکنے کے لیے کس طرح کا دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق محکمہ خارجہ نے بتایا ہے کہ بلنکن براہِ راست ان سات سابق قیدیوں، دیگر قیدیوں کے اہلِ خانہ سے اس صورتِ حال کے بارے میں جاننا چاہتے تھے جس کا سامنا انہیں اور ایغور برادری کو عام طور پر کرنا پڑا ہے۔محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ وزیرِ خارجہ نے ان افراد سے آن لائن ملاقات اور ان کے حالات ان ہی کی زبانی سننے کو اہم سمجھا۔ وہ سنکیانگ میں جاری ظلم اور لاکھوں ایغور مسلمانوں کو قید میں رکھے جانے کے بارے میں خود ان سے جاننا چاہتے تھے جن پر یہ سب کچھ بیتا ہے۔

نیڈ پرائس نے مزید کہا کہ یہ ورچوئل ملاقات کے شرکا کے لیے بھی ایک موقع تھا کہ وہ صورتِ حال کے حوالے سے اقدامات پر تجاویز دیں۔واضح رہے کہ چین کو 10 لاکھ سے زائد ایغور مسلم افراد سمیت دیگر اقلیتوں کی سیاسی کی ذہن سازی کے لیے سنکیانگ میں تحویل میں رکھنے پر عالمی سطح پر تنقید اور پابندیوں کا سامنا ہے۔پرائس نے کہا کہ یہ ملاقات ظاہر کرتی ہے کہ ایک دوسرے سے بہت مختلف بائیڈن اور ٹرمپ انتظامیہ میں اس معاملے پر امریکی پالیسی میں کس طرح تسلسل پایا جاتا ہے۔