Richard Branson and his Virgin Galactic crew safely return to earth from space trip

واشنگٹن: ( اے یو ایس )جان جوکھم میں ڈال کر کچھ بھی کر گذرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنے والے برطانوی تاجر سر رچرڈ چارلس نکولس برینسن، جو 400سے زائد کمپنیوں پر مشتمل ورجن گروپ کے بانی اورخلائی پرواز کمپنی ”ورجن گیلاکٹیک“ کے سربراہ ہیں،اتوار کو اپنی کمپنی کے تیار کردہ خلائی جہاز میں دو پائلٹس اور کمپنی کے دیگر تین ملازمین کے ہمراہ خلا کے تاریخی سفر کے بعد بحفاظت کرہ ارض پر واپس آ گئے۔برینسن کو لے کر خلائی جہاز ‘وی وی ایس یونٹی’ نے امریکی ریاست نیو میکسیکو کے جنوبی صحرا سے اڑان بھری۔تین جیٹ طیاروں کی طرح دکھائی دینے والا ‘مدر شپ’ 50 ہزار فٹ کی بلندی پر پہنچا تو پائلٹس نے راکٹ کا انجن چالو کر دیا جس نے خلائی گاڑی کو خلا میں دھکیل دیا۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق خلائی گاڑی نے زمین کی سطح سے 55 میل اوپر خلا میں عمودی پرواز کی۔خلا میں یہ پرواز چند منٹ پر محیط تھی جس میں خلائی گاڑی میں سوار مسافر نے کشش ثقل نہ ہونے کے تجربے کے علاوہ سیاہ چادر کی طرح پھیلی خلا اور اس سے زمین کے مدار کا خوبصورت نظارہ کیا۔اپنے بیان میں برینسن نے اس ٹیسٹ فلائٹ کو خلائی سیاحت کو حقیقت کا رنگ دینے میں اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔خیال رہے کہ ‘ورجن گلیکٹک’ آئندہ برس کمرشل بنیادوں پر خلائی جہاز خلا میں بھیجنے کا ارادہ رکھتی ہے۔خلائی سفر کے لیے دنیا کے کئی ارب پتی افراد نے پہلے سے ہی اپنی نشستیں بک کرا رکھی ہیں جن کی اوسط قیمت ڈھائی لاکھ امریکی ڈالر تک ہے۔البتہ، اس سے قبل خلائی کمپنیاں راکٹ کے ذریعے کیے جانے والے اس سفر کو محفوظ ثابت کرنے کے لیے ٹیسٹ فلائٹس کا اہتمام کر رہی ہیں۔

ای کامرس کمپنی ایمیزون کے بانی جیف بیزوس کی خلائی کمپنی ‘بلو اوریجن’ بھی اس دوڑ میں شامل ہے۔جیف بیزوس اپنے بھائی مارک بیزوس کے ہمراہ اپنی کمپنی ‘بلو اوریجن’ کے تیار کردہ خلائی جہاز ‘نیو شیپرڈ’ میں 20 جولائی کو خلا کا سفر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ماہرین برینسن کے اس اقدام کو خلائی مہم جوئی کے میدان میں سبقت کی ایک کوشش قرار دے رہے ہیں۔البتہ، 71 سالہ برینسن نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ اور بیزوس دوستانہ حریف ہیں جس کا مقصد خلائی دوڑ میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانا نہیں ہے۔خلائی دوڑ میں شامل تیسری کمپنی ایلن مسک کی ‘اسپیس ایکس’ ہے جو رواں برس ستمبر میں عام شہریوں پر مشتمل سیاحوں کو خلا کی سیر کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ کمپنی اس سے قبل خلائی سازو سامان اور خلا نوردوں کو ناسا کے عالمی اسپیس اسٹیشن تک پہنچاتی رہی ہے۔