Afghan political delegation will talk to Taliban in Doha at the weekend

کابل:افغان سیاسی وفد دوحہ میں رواں ہفتے کے آخر میں طالبان کیساتھ مذاکرات کرےگا۔افغان میڈیا کے مطابق 11رکنی افغان سیاسی وفد کا رواں ہفتے کے آخر میں دوحہ جانے کا امکان ہے، افغان سیاسی وفد میں عبداللہ عبداللہ، حامد کرزئی، یونس قانونی، کریم خلیلی، محمد محقق ، سلام رحیمی، عبدالرشید دوستم، گلبدین حکمت یار، سید سادات منصور نادری شامل ہیں۔اس کے علاوہ عنایت اللہ اور فاطمہ گیلانی بھی افغان سیاسی وفد کا حصہ ہونگی، تاہم یہ واضح نہیں گیا ہے کہ طالبان کے وفد کی قیادت کون کرے گا۔

امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد بھی دوحہ میں موجود ہیں، زلمے خلیل زادگذشتہ 2دنوں میں دوحہ میں مذاکرات کاروں سے ملاقات کر چکے ہیں۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ افغانستان میں جاری طالبان اور افغان سیکورٹی فورسز کی لڑائی کے دوران شہری علاقوں کے پڑھے لکھے نوجوانوں کی اکثریت غیریقینی صورت حال سے دوچار ہے۔افغانستان میں نوے لاکھ بچے بچیاں اسکول جاتے ہیں اور دو کروڑ لوگ انٹرنیٹ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

ادھر اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی یو این ایچ سی آر نے افغانستان میں منڈلاتے ہوئے انسانی بحران پر انتباہ جاری کیا ہے۔یو این ایچ سی آر کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ امریکی انخلا اور طالبان کی پیش قدمی کے باعث ہونے والی تکالیف سے شہری نقل مکانی بڑھ رہی ہے۔ جنوری سے اب تک 2 لاکھ 70ہزار افغان اپنے ہی ملک میں نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔