Kohistan bus tragedy an accident, not a terror attack: Qureshi to Chinese FM

پشاور:(اے یو ایس)پاکستان نے چین سے کہا ہے کہ خیبر پختون خوا کے کوہستان ضلع میں داسو پن بجلی پراجکٹ کے قریب جو بس دھماکہ ہوا ہے وہ تخریب کاری یا دہشت گردی نہیں ہے۔ بدھ کے روز دوشنبے میں وزراءخارجہ کی شنگھائی تعاون تنظیم کونسل کے اجلاس کے دوران فرصت کے لمحا ت میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے چینی ہم منصب وانگ یی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بس دھماکہ دہشت گردی کا شاخسانہ نہیں بلکہ ایک حادثہ ہے۔ دوران گفتگو یی نے سخت لہجہ میں کہا کہ اگر یہ معاملہ دہشت گردی یا تخریب کاری کا ہوا تو ملزموں کو فوراً گرفتار کر کے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جانا چاہئے۔واضح ہو کہ ےہ بس 30چےنی انجےرئراور ٹکنےشن کے علاوہ فوجی اہلکاروں کو ڈاسو ڈےم، جہاں ایک بجلی گھر تیار کیا جا رہا تھا، لے جا ر ہی تھی کہ بس میں دھماکہ ہو گیا جس میں14 چینی انجینئر اور اسٹاف کے علاقے دو پولیس اہلکار سمیت 15افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔یہ انجینئرضلع کوچستان میں ایک بجلی گھر تعمیر کرنے کے لئے کام کررہے تھے۔

ابتدائی رپورٹس سے پتہ چلا کہ بس میں سوار 30ملازمین جن میں بیشتر چینی انجینئر اور سپر وائزر شامل ہیں۔ بجلی گھر میں کام کرنے کے لئے جارہے تھے۔اس میں مقامی مزدور بھی شامل تھے۔کوہستان کے ڈپٹی کمشنر عارف خان یوسف زئی نے کہا کہ حادثے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہے۔ پولیس اور انتظامیہ نے اس علاقے کو اپنے گھیرے میں لے لیا ہے ۔ زخمیوں کو مقامی اسپتال میں منتقل کردیاگیا ہے۔ اس علاقے میں موبائل نیٹ ورک ٹھپ کردیا گیا۔عہدیداروں نے کہا کہ یہ حادثہ کسی دھماکے کی طرح لگتا ہے۔پولیس کی ابتدائی تفتیش مکمل ہونے کے بعد صورتحال واضح ہوگئی۔پولیس سربراہ ہیلی کاپٹر کے ذریعہ جائے واردات پر پہنچے۔دھماکے کے بعد بس کھائی میں گر گئی۔اس دوران چین کے سفارت نے کہاکہ یہ لوگ ایک کمپنی کے لئے کام کررہے تھے۔اس حادثے میں28چینی باشندے اور زخمی ہوگئے۔سفارتخانے نے کہا کہ 28چینی باشندے زخمی ہوگئے ہیں۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے حکام کے مطابق اپر کوہستان کے علاقے داسو میں ڈیم منصوبے کے قریب ایک بس حادثے میں چھ چینی شہریوں سمیت کم از کم 10 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ڈپٹی کمشنر کوہستان عارف خان یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق بس کو روڈ حادثہ پیش آیا اور یہ کوئی دھماکہ یا دہشتگردی کا واقعہ نہیں تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے بعد مزید تفصیلات فراہم کی جائے گی۔ عارف خان یوسفزئی کے مطابق یہ ایک خطرناک سڑک ہے جہاں بد قسمتی سے روڈ حادثے عام ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’متاثرین کی منتقلی کے لیے ہیلی کاپٹر پہنچ چکا ہے۔‘ڈپٹی کمشنر اپر کوہستان کے دفتر کے مطابق ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں مجموعی طور پر دس افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں چھ چینی شہری، دو ایف سی اہلکار، بس ڈرائیور اور کنڈیکٹر شامل ہیں۔تاہم انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ‘اپر کوہستان میں ایک بس میں بڑا دھماکہ ہوا جس میں چینی انجینیئرز سفر کر رہے تھے۔‘روئٹرز کے مطابق اس اہلکار کا کہنا ہے کہ اپر کوہستان میں اس بس پر 30 سے زیادہ چینی انجینیئرز موجود تھے اور یہ داسو ڈیم کے مقام کی طرف روانہ تھی۔تاہم پولیس تھانہ داسو کے مطابق یہ واقعہ برسین کے مقام پر شاہراہ قراقرم پر چلتی گاڑی میں پیش آیا ہے۔

واقعے کے بعد ایس ایچ او اور تمام پولیس افسران اور اہلکار موقع پر پہنچ گئے ہیں۔تھانہ داسو کے مطابق ’ہمارے پاس ابھی صرف ابتدائی اطلاع ہی دستیاب ہے۔‘ جبکہ کوہستان پولیس کنٹرول کے مطابق اس مقام پر انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروس نہیں ہیں۔واضح رہے کہ برسین کا مقام اپر کوہستان کے ہیڈ کوارٹر داسو سے تقریباً دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقعہ ہے۔دوسری جانب واقعے کے بعد صوبائی حکومت کا اعلیٰ سطحی وفد کوہستان روانہ ہو چکا ہے جس میں وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کامران بنگش کے ساتھ چیف سیکریٹری اور پولیس سربراہ شامل ہیں۔کامران بنگش نے ایک بیان میں کہا ہے کہ معاملہ کی جانچ کے بعد میڈیا کو صورتحال سے آگاہ کیا جائے گا۔

برسین اپر کوھستان داسو کا مقام شاہراہ قراقرم پر واقع ہے۔ یہ جگہ داسو ڈیم کی سائٹ مقام میں بھی آتی ہے۔ اس مقام کے قریب ہی پانی کا ایک پائپ ہے جہاں سے مقامی لوگ پانی بھرتے ہیں اور اس سڑک کے قریب ہی آبادی ہے۔اس حادثے کے وقت موقع پر موجود عینی شاہدین نے صحافی محمد زبیر کو بتایا کہ ’یہ واقعہ صبح کے وقت پیش آیا جب معمول کے مطابق ’داسو ڈیم میں کام کرنے والے کارکناں کی بسیں اپنے وقت پر آ رہی تھیں کہ یک دم ہی دھماکے کی زور دار آواز آئی۔ جس کے بعد بس ہوا میں اچھلی اور نیچی گر پڑی جس کے بعد زخمیوں کی چیخ و پکار کی آوازیں آ رہی تھیں۔‘ایک اور عینی شاہد کے مطابق ’دھماکے کے بعد ایسے لگا کہ بس ہوا میں اڑ رہی ہیں۔ جس کے بعد وہ بس بھی زور دار آواز کے ساتھے نیچی آئی ہے۔ مقامی لوگ اس حادثے کو دیکھ کر موقع کی طرف دوڑے جہاں پر زخمی چیخ و پکار کر رہے تھے۔