Two security men including a captain martyred in Kurram operation

لاہور: ( اے یو ایس ) قبائلی علاقے کرم میں مغوی مزدوروں کی بازیابی کے لیے جاری آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے سے سکیورٹی فورسز کے دو اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ پولیس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی علاقے کرم میں خوائداد خیل کے مقام پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران شدت پسندوں کی جانب سے فائرنگ میں کیپٹن محمد باسط اور ایک سپاہی ہلاک ہو گئے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ اس کارروائی میں شدت پسندوں کا بھی بھاری جانی نقصان ہوا ہے ۔

دریں اثنا کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سینٹرل کرم کے علاقے خوئداد خیل اور غور خوری میں آپریشن کے لیے آئے سکیورٹی اہلکاروں پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا جس میں دستی بموں اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔مزدور کوہاٹ اور کرم ڈسٹرکٹ میں موبائل ٹاوروں پر کام کے لیے گئے تھے، جنھیں 22 جون کو نا معلوم افراد اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔ پولیس کے مطابق ایک مزدور کاشف کی گولیوں سے چھلنی لاش بھی ملی ہے جبکہ باقی مزدوروں کو تاحال بازیاب نہیں کرایا جا سکا۔ضلعی پولیس افسر کرم طاہر اقبال کے مطابق وسطی کرم میں ضلع اورکزئی کی سرحد کے قریب دور دراز علاقے زیمشت میں مزدور موبائل فون ٹاور کی تنصیب میں مصروف تھے کہ نامعلوم افراد نے انھیں اغوا کر لیا۔چند سال پہلے سکیورٹی فورسز نے ان علاقوں کو دہشت گردوں سے کلئیر کر دیا تھا مگر اب ایک بار پھر علاقے میں اغوا کے واقعات شروع ہو گئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ایک اپیل بھی سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ضلع اوکاڑہ کی تحصیل رینالہ کے گاؤں میں ایک گھر کے دو بیٹے محمد آصف اور محمد کاشف دیگر ساتھیوں کے ہمراہ ٹاور سگنل پر کام کے لیے کوہاٹ گئے تھے جنھیں بائیس جون کو نامعلوم افراد نے تاوان کے لیے اغوا کر لیا ہے۔اس اپیل میں کہا گیا ہے کہ اغوا کاروں نے دس مزدوروں کو چھوڑ دیا تھا جبکہ چھ مزدور وہ ساتھ لے گئے تھے اور ان مزدوروں کی بازیابی کے لیے پانچ کروڑ روپے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔اس اپیل میں مزید کہا گیا کہ رقم ادا نہ کرنے پر ایک مزدور کو ہلاک کر دیا گیا ہے اور اگر رقم ادا نہ کی گئی تو باقیوں کو بھی ہلاک کیا جا سکتا ہے۔ یہ اپیل وزیر اعظم عمران خان اور پنجاب حکومت سے کی گئی ہے۔پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ مزدوروں کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ صوبہ پنجاب کے ضلع اوکاڑہ کے رہائشی مغوی محمد کاشف کی گولیوں سے چھلنی لاش کرم پولیس کو ملی ہے جبکہ اوکاڑہ کے ہی رہائشی جبکہ محمد آصف، گل فراز اور خیبر پختونخوا کے ضلع دیر کے رہائشی محمد انس اور امداد خان اور ضلع چارسدہ کے رہائشی فرمان تاحال اغوا کاروں کے قبضے میں ہیں۔ادھر جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان میں بھی تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں جن میں ٹارگٹ کلنگ اور اغوا کے واقعات شامل ہیں۔شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی کے مضافاتی علاقے حسو خیل میں ٹاٹر کے مقام پر نامعلوم مسلح افراد نے قلفیاں بیچنے والے بہاولپور کے ایک رہائشی کو ٹارگٹ کر کے قتل کر دیا ہے۔

ملزمان واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔پولیس ذرائع کے مطابق مقتول کا تعلق صوبہ پنجاب کے ضلع بہاولپور سے تھا اور وہ شمالی وزیرستان میں قلفیاں بیچا کرتا تھا۔ اس سے پہلے بھی شمالی وزیرستان میں قلفی ملائی اور کپڑے بیچنے والے افراد کو اسی طرح ٹارگٹ کیا جاتا رہا ہے۔گزشتہ روز شمالی وزیرستان میں بارہویں جماعت کی طالبات کے پرچے کے دوران سرکاری سکول پر دستی بم سے حملہ کیا گیا تھا لیکن اس میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ تعلیمی ادارے پر یہ حملہ ایک لمبے وقفے کے بعد ہوا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران شدت پسندوں کی جانب سے خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں متعدد سکولوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں تشدد کے واقعات میں ایک مرتبہ پھر اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور بعض تجزیہ کارں کے مطابق حالات پھر سے وہی رخ اختیار کرتے جا رہے ہیں جو قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن شروع کرنے سے پہلے تھے، جب وہاں ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکے، سکولوں پر حملے اور اغوا کے واقعات ایک روز مرہ کا معمول بن گیا تھا۔ پاکستان فوج نے ان علاقوں میں فوجی آپریشن کیے جس کے بعد کہا گیا تھا کہ یہ علاقے اب شدت پسندوں سے صاف کر دیے گئے ہیں۔ ان آپریشنز کے بعد کچھ عرصے تک حالات بہتر رہے اور ان علاقوں میں معاشی سرگرمیاں بھی شروع ہو گئی تھیں لیکن اب ایک مرتبہ پھر ان علاقوں میں تشدد کے واقعات پیش آ رہے ہیں جس سے مقامی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔