Beijing steps in to probe Pak bus blast case

بیجنگ: پاکستان میں ہوئے ایک بس پر دہشت گردوں کے حملے میں اپنے نو شہریوں کی ہلاکت سے طیش میں آنے والے چین نے پاکستان کو واضح الفاظ میں متنبہ کیا ہے کہ اگر وہ دہشت گردوں سے نمٹ نہیں سکتا تو چینی فوجیوں کو میزائلوں کے ساتھ مشن پر بھیجا جاسکتا ہے۔ چین کی طرف سے اس دھمکی نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی پریشانی میں اضافہ کر دیاہے۔ انہوں نے بیجنگ کو یقین دلایا ہے کہ بس دھماکے کی تحقیقات میں کسی بھی قسم کی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ دشمن افواج کو دونوں ممالک کے مابین خوشگوار تعلقات کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور مجرموں کو بخشا نہیں جائے گا۔ چینی حکومت کے سائرن گلوبل ٹائمز کے ایڈیٹر نے اس حوالے سے ٹویٹ کرکے پاکستان کو متنبہ کیا ہے کہ اس حملے میں ملوث بزدلانہ دہشت گرد ابھی تک سامنے نہیں آئے ہیں ، لیکن انھیں ضرور تلاش کیا جائے اور ان کا خاتمہ کیا جا نا چائیے۔ اگر پاکستان کی صلاحیت کافی نہیں ہے تو پھر اس کی منظوری سے چینی میزائلوں اور خصوصی دستوں کوکام پر لایا جاسکتا ہے۔

عالمی وزارت خارجہ کے ترجمان ڑا لیجیان نے اعلان کیا کہ ملک اس معاملے میں پاکستان کی مدد کے لئے ایک کراس ڈپارٹمنٹ ورک گروپ بھیجنے کے لئے تیار ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس بیان کے بعد پاکستان پر بھی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا دبا ؤبن گیا ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ چین خود پاکستان کے دہشت گردوں کی حفاظت کرتا رہا ہے۔ انہوں نے متعدد بار اقوام متحدہ میں مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی ہندوستانی کوششوں کو ناکام بنا دیا ہے۔ اب جب اس کے اپنے شہری دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیںتو وہ ڈر گیاہے۔

وہیں عمران خان اپنے دوست کے غصے کوٹھنڈا کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ عمران خان حکومت نے شروعات میں چین کے ڈر سے اس حملے کو حادثہ بتانے کی کوشش کی تھی حملے کی سازش پر پردہ ڈالنے کی اس پاکستانی کوشش پر بیجنگ نے برہمی کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اپنی تفتیشی ٹیم بھی بھیجے گا۔قابل غور ہے کہ 14 جولائی کو صوبہ خیبر پختون خوا کے اعلی ضلع کوہستان کے داسو کے علاقے میں زیر تعمیر داسو ڈیم سائٹ پر چینی انجینئروں اور کارکنوں کو لے کر جا رہی ایک بس میں دھماکہ ہونے کم از کم 13 افراد جن میں نو چینی شہری اور دو فرنٹیئر کور فوجی شامل ہیں ہلاک ہوگئے تھے اور 39 زخمی ہوگئے ۔