Eleven nations participate in massive US-Australia military drills as tensions escalate in Indo Pacific

کینبرا: ہند بحر الکاہل کے خطے میں چین کی جارحیت کی وجہ سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ، امریکہ ، آسٹریلیا اور جاپان نے آٹھ دیگر ممالک کے ساتھ مل کر آسٹریلیا ، ہند اور اس کے آس پاس کے آبی علاقے میں مشترکہ مشق شروع کردی ہے۔ نکئی ایشیا نے بتایا کہ چین کو سبق سکھانے کے لئے امریکہ اور آسٹریلیا نے بدھ کے روز اپنی دو سالہ مشق آغاز کیا ، جس میں برطانیہ ، کناڈا ، جنوبی کوریا اور نیوزی لینڈ کی دفاعی افواج نے بھی مشق میں حصہ لیا ، جبکہ ہندوستان ، انڈونیشیا ، جرمنی اور فرانس بھی س مشق میں شامل ہوں گے۔ جمعرات کو جاپانی چیف کابینہ کے سیکرٹری کاتسونوبو کٹو نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ یہ مشق آزاد ہند بحر الکاہل کی سمت تعاون کو مزید مستحکم کرے گی۔امریکہ ، جاپان ، ہندوستان اور آسٹریلیا کواڈ کے ذریعے ، اس خطے میں قواعد پر مبنی نظام کو فروغ دے رہے ہیں۔

چین کی بڑھتی ہوئی جارحیت کو روکنے کے لئے ، امریکہ سکیورٹی کے طور پر کواڈ کی حمایت کر رہا ہے ، جس میں ہندوستان ، جاپان ، امریکہ اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ جاپان دور دراز کے جزیرے کے دفاع میں مہارت والی ایک گراو¿نڈ سیلف ڈیفنس فورس یونٹ بھیج رہا ہے اور جزیرہ نانسی گروپ میں ہنگامی صورتحال کے ابتدائی رد عمل کے ساتھ کام کرر ہا ہے۔ اس جزیرے کے گروپ میں جاپان کے زیر انتظام سینکاکس بھی شامل ہے ، جسے چین ڈیوﺅ کہتا ہے اور اس پر اپنا دعوی کرتا ہے۔جی ایس ڈی ایف کے چیف آف اسٹاف جنرل یوشیہدے نے کہا نانسی جزیرے کے دفاع کے لئے جنگی مشقیں اہم ہیں اور یہ جاپان کی اولین دفاعی ترجیحات میں سے ایک ہے۔ یہ مشق ایسے وقت میں ہورہی ہے جب ہند بحر الکاہل میں بین الاقوامی توجہ بڑھ رہی ہے اور تائیوان آبنائے میں بھی تناو¿ بڑھتا جارہا ہے۔ جاپان کی وزارت دفاع نے تائیوان کی صورتحال کو اپنے اولین چیلنجوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کو اس ہفتے ایک وائٹ پیپر میں تائیوان آبنائے پر پہلے سے کہیں زیادہ بحران کے احساس کے ساتھ دھیان دینا چاہئے۔