Half districts of Afghanistan are under Taliban control: Mark Milley

کابل: افغانستان میں 15ممالک کے سفارت خانوں اور ناٹو ممالک کے نمائندوں نے ایک مشترکہ بیان جاری کر کے طالبان سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی تخریبی کارروائیاں اور تشدد بند کر دیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ تشدد سے امن مذاکرات کی کوششوں کو ناکام بنا رہی ہیں اور افغان عوام کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔جن 15ممالک کے سفارت خانوں نے یہ مشترکہ بیان جاری کیا ان میں آسٹریلیا، کناڈا، چیک جمہوریہ، ڈنمارک، یورپی یونین ڈیلیگیشن ، فن لینڈ، فرانس، جرمنی ، اٹلی، جاپان ، جنوبی کوریا، ہالینڈ، ناٹو دفتر، غیر فوجی نمائندے، اسپین، سویڈن، برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں۔

بیان میں ملک گیر پیمانے پر ہدف بنا کر ہلاک کرنے،بنیادی ڈھانچوں کو مسمار کرنے ،دھمکیاں دینے،عوام کو فرمان جاری کرنے اور گذشتہ20سال کے دوران حاصل کامیابیوں کو ملیامیٹ کرنے والی کارروائیوں کی مذمت کی گئی۔ اس میں مزید کہا گیا کہ گذشتہ20سال کے دوران جو کامیابیاں ملی ہیں اس کی تمام ممالک کی حمایت کرتے ہیں ۔طالبان کا تسلسل سے تشدد ان کے اس دعوے کے قطعی برعکس ہے کہ وہ تنازعہ کے مذاکراتی تصفیہ اور امن عمل کی حمایت کرتے ہیں۔ ان 15ممالک نے ان اضلاع میں جہاں طالبان نے قبضہ کر لیا ہے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی بھی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔اس کے علاوہ طالبان کے ذریعہ اسکول بند کرانے اور میڈیا اداروں کے دفاتر پر قبضہ کئے جانے کی بھی بیان میں مذمت کی گئی ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکہ کی قیادت والی افواج 20 سال کے طویل عرصہ کے بعد افغانستان سے واپس لوٹ رہی ہیں اور اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے طالبان زیادہ تر علاقوں پر قبضہ کرنے میں لگ گیا ہے۔ واضح ہو کہ افغانستان کے لیڈروں کا ایک وفد ویک اینڈ پر قطر کی راجدھانی میں طالبان سے ملا تھا ، لیکن اتوار کو طالبان کی جانب سے جاری بیان میں جنگ بندی کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا۔