China says Microsoft hacking accusations fabricated by US and allies

بیجنگ: چین نے امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کے ان الزامات کو ،کہ وہ مائیکرو سافٹ کے ای میل سسٹم کو ہیک کرنے کا ذمہ دار ہے،مسترد کرتے ہوئے شکایت کی کہ خود چینی یونٹ خطرناک امریکی سائبر حملوں کا شکار ہیں۔ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ژا لیجان نے پیر کے روز مطالبہ کیا کہ امریکہ نے پیر کو وزارت شہری دفاع کی وزارت میں کام کرنے والے چار چینی باشندوں پر امریکی خفیہ کاروباری معلومات اور ٹکنالوجی اور بیماریوں کی تحقیقات سے متعلق معلومات چوری کرنے کا جو الزام عائد کیا ہے وہ اسے واپس لے ۔ لیجان نے کہا ،امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر چینی سائبر سکیورٹی کے خلاف بلاجواز الزامات عائد کرنے کے لئے اتحاد کیا۔یہ سیاسی نیت کے ساتھ مکمل طور پر بدنامی اور دباو¿ بنانے کا ایک عمل ہے۔ چین اسے کبھی قبول نہیں کرے گا۔ تاہم چینی ترجمان نے ممکنہ انتقامی کارروائی کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔ چین ، امریکہ اور روس کے ساتھ ہی سائبر وار ریسرچ کی تحقیق میں بھی سر فہرست ہے ، لیکن وہ ان الزامات کی تردید کرتا رہتاہے کہ چینی ہیکروں نے خفیہ کاروبار اور ٹکنالوجی کی معلومات کو چوری کرتے ہیں۔

سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ وزارت دفاع اور سکیورٹی وزارت حکومت کے باہر سے آنے والے ہیکرز کو بھی پناہ دیتی ہے۔ امریکی عہدیداروں نے پیر کو کہا کہ حکومت سے وابستہ ہیکرز نے امریکیوں اور دیگر متاثرین کو نشانہ بنایا تھا اور لاکھوں ڈالر کا مطالبہ کیا تھا۔امریکی محکمہ انصاف نے پیر کے روز چار چینی شہریوں کے خلاف الزامات کا اعلان کیا۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ یہ افراد ہیکنگ کے لئے وزارت شہری دفاع کے ساتھ کام کر رہے تھے جس میں کمپنیوں ، یونیورسٹیوں اور سرکاری تنصیبات سمیت درجنوں کمپیوٹر سسٹم کو نشانہ بنایا گیا۔برطانیہ کے سکریٹری خارجہ ڈومینک راب نے کہا کہ مائیکروسافٹ ایکسچینج کے سائبر حملے پریشان کن تھے لیکن اس کا طریقہ اس انداز کا تھا جس سے ہم واقف ہیں۔ژا نے امریکی خفیہ ایجنسی سینٹرل انٹلیجنس ایجنسی پر 11 سال تک چین کے ایرو اسپیس ریسرچ یونٹوں ، تیل کی صنعت ، انٹرنیٹ کمپنیوں اور سرکاری اداروں کو ہیک کرنے کا الزام عائد کیا۔