Protesters urge Prime Minister Trudeau to recognise Uyghur genocide in China

اوٹاوا: کناڈا کے اوٹاوا میں اتوار کے روز چین کے اویغور مسلمانوں پر کئے جا رہے مظالم کے خلاف زبردست ریلی نکالی گئی جس میںملک بھر سے سیکڑوںافراد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے دفتر کے باہر ریلی کرتے ہوئے کناڈا کی حکومت سے اویغور نسل کشی رکوانے کے لئے اقدامات کرنے کی اپیل کی۔ اس احتجاج میں بچوں اور خواتین کی ایک بڑی تعداد نے بھی حصہ لیا۔ اس ماہ کے شروع میں ، ٹورنٹو سے اوٹاوا تک 15 روزہ مارچ کا انعقاد کیا گیا تھا۔ریلی کا مقصد چینی حکومت کی جانب سے 5 جولائی کو کئے گئے اروومکی قتل عام کے متاثرین کی تعزیت کرنا ہے۔5 جولائی ، 2009 کو ، چینی حکومت نے پرامن احتجاج کے خلاف کریک ڈان میں سنکیانگ کے اورومکی میں ہزاروں اویغور مظاہرین کو ہلاک کیا، لاپتہ ہو گئے یا زخمی کردیا۔ ریلی میں شریک اویغور مسلم بلال ملک نے بتایا کہ انہوںنے اپنا 15 روزہ مارچ مکمل کر لیا ہے اور وہ اتوار کے روز مختلف تنظیموں کے زریعے دستخط شدہ مشترکہ خط دینے کے لئے وزیر اعظم کے دفتر پہنچے۔ا نہوں نے کناڈا کی حکومت اور اولمپک کمیٹی سے بیجنگ 2020 اولمپکس کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی ہے۔ یہ احتجاج 33 کناڈا کے سینیٹرز کے اویغور مسلمانوں کے خلاف تشدد کو نسل کشی کے طور پر تسلیم نہ کرنے کے فیصلے کے خلاف بھی تھا۔آزاد سینیٹرز گروپ(آئی ایس جی) کے رہنما ، یواین پا وو نے 28 جون کو سینیٹ کو بتایا کہ کناڈا کو اویغوروں اور دیگر ترک مسلمانوں کے خلاف انسانی حقوق کی پامالیوں پر چین پر تنقید کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔ واضح ہو کہ ایسٹ ترکستان ایسوسی ایشن کناڈا نے چین میں بڑے پیمانے پر وایغور مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف 15 روزہ واکنگ احتجاج کا آغاز کیا تھا۔ یوم آزادی کے موقع پر 4 جولائی 2021 کو ٹورنٹو سے اوٹاوا تک آزادی مارچ کا انعقاد کیا گیا۔ منتظمین کے مطابق ، اس احتجاج کا مقصد مشرقی ترکستان (چین میں سنکیانگ) میں جاری اویغور کی نسل کشی کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے۔