Ready to talk to Taliban: says Ashrf Ghani

کابل: صدر اشرف غنی نے بدھ کے روز یہاں اسپیشل آپریشن کمانڈ سینٹر کا دورہ کیا اور کہا کہ طالبان کے القاعدہ، لشکر طیبہ اور جیش محمد سے گہرے روبط ہیں اور طالبان افغانستان کو ” فسادیوں اور دہشت گردوں کی جنت “ بنانے پر تلے ہیں۔صدارتی محل سے جاری ایک بیان کے مطابق صدر نے عید کی مبارکباد دینے کے لیے سینٹر پہنچنے کے بعد دو ٹوک لہجہ میں کہا کہ لیکن حکومت انہٰنہرگز ایسا نہیں کرنے دے گی“۔ غنی نے افغان اسپیشل آپریشن دوستوں کو ہر قسم کی مدد بہم پہنچانے کا عہد کیا۔

انہوں نے ملک کی حفاظت اوردفاع میں جان قربان کردینے والے فوجیوں کے لواحقین کی ضرورتوں کی تکمیل کا بھی وعدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد افغانستان،آزادی، مساوات اور گذشتہ20سال کے دوران حاصل کامیابیوں کا تحفظ کرنا ہے۔ لیکن دشمن کا ارادہ نیک نہیں ہے ۔ اور آپ دشمن کو ثابت کر سکتے ہیں کہ ان کے خواب انہی کے ساتھ ان کی قبروں میں چلے جائیں گے۔ اور وہ ان خوابوں کو آنکھوں میں سجائے ہی دفن ہو جائیں گے۔مسٹر غنی نے یہ بھی کہا کہ اب افغانستان کا پانی افغانستان کی ہی کی ملکیت ہے اور یہی وجہ ہے کہ افغانستان کے دشمن سازش کے ذریعہ بدلہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں: “وہ ہم سے بدلہ لیں گے۔”

مسٹر غنی نے کہا کہ ہم صرف اور صرف ملک میں پائیدار امن کے خواہاں ہیں مگر دشمن اسے ہماری کمزوری پر محمول نہ کرے بلکہ اسے یہ جان لینا چاہئے کہ ہم کبھی بھی ہار نہیں مانیں گے۔آپ کو دنیا اور کسی بھی دوسری طاقت کو دکھا دینا ہے کہ آپ میں ملک کے دفاع اور دشمن کے دانت کھٹے کر دینے کی تمام تر صلاحیتیں ہیں۔ افغانستان تمام افغانوں کا ہے اور آخری سانس تک اس کی حفاظت کرنا ہم سب کی قومی ذمہ داری ہے۔