Farm laws: 200 farmers start 'Kisan Sansad' at Jantar Mantar

نئی دہلی: تین زرعی قوانین کے خلاف احتجاج میں متحدہ کسان مورچہ کی جانب سے جمعرات کے روز قومی راجدھانی میں ایک کسان سنسد کا انعقاد کیا گیا۔اس کسان پارلیمانی اجلاس کا آغاز 200کاشتکاروں نے سخت حفاظتی بندوبست کے درمیان قومی دارالخلافہ کے جنتر منتر پر کیا جس میں مقررین نے کسانوں کے مطالبات منظور کیے جانے تک تحریک جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس موقع پر کسان رہنما یوگیندر یادو نے کہا کہ مرکزی حکومت کسان مخالف ہے اور اس سے کسانوں کی توہین ہوتی ہے ،انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب ووٹرز نے ایک وہپ جاری کیا ہو۔

دریں اثناموصول اطلاع کے مطابق کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے نئے زرعی قوانین کی منسوخی کے کسانوں کے مطالبات پر پارلیمنٹ احاطہ میں کسانوں کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ میں شرکت کی۔ راہل گاندھی نے پارٹی کے کئی اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ پارلیمنٹ احاطہ میں مہاتما گاندھی کے مجسمہ کے پاس مظاہرہ کیا۔ کانگریس لیڈروں نے تینوں زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔ راہل گاندھی نے اس تعلق سے اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے ایک تصویر بھی شیئر کی ہے جس میں راہل گاندھی سمیت کانگریس کے دیگر لیڈران مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے اس ٹوئٹ میں لکھا ہے ”وہ جھوٹ، ناانصافی، تکبر پر بضد ہیں، ہم سچ، بے خوف، متحد یہاں کھڑے ہیں۔