Fighting reported in multiple areas, 19 soldiers killed

کابل: سیکورٹی ذرائع کے مطابق گذشتہ24گھنٹے کے دوران افغان سلامتی دستوں اور طالبان کے درمیان جنگ کی نئی لہر میں افغان سلامتی دستوں کے کم از کم 19اہلکار بشمول 3عوامی سیکورٹی فورسز اہلکار ہلاک ہو گئے۔ ایسی خبریں ہیں کہ سلامتی دستوں نے جنوبی ہلمند صوبہ کے مرجاہ اور گرم شیر اضلاع سے دستبرداری اختیار کر لی اور اب ان اضلاع پر طالبان کا قبضہ ہے۔

ہلمند سے ایک ممبر پارلیمنٹ کریم عطا نے کہا کہ یہ ایک جنگی حکمت عملی کے تحت کیا گیا ہے ، سلامتی دستے مرجاہ اور گرم شیر میں اپنی کارروائیاں دوبارہ شروع نہ کر پانے کے باعث لشکر گاہ شہر منتقل ہو گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق کونار صوبے کے غازی آباد ڈسٹرکٹ میں طالبان اور سلامتی دستوں میں زبردست جنگ جاری ہے۔افغان سیکورٹی عہدیداران نے مزید بتایا کہ اس مدت کے دوران سلامتی دستوں نے ملک کے مختلف حصوں میں کم ا زکم60طالبان کو ہلاک کر دیا۔

ہلمند، کپیسا، کندوز، تخار، بدخشاں، لوگار ، قندھار اور جوز جان صوبوں میں بھی لڑائیاں جاری ہیں۔ دفاعی امور سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ حیدر افضالی نے کہا کہ دارائے فرخشا علاقہ اور کپیسا کے نجراب میں مقامی کمانڈروں اور طالبان میں لڑائی چھڑ گئی ہے اور اب تک کی اطلاع کے مطابق طالبان کو زبردست جانی نقصان ہوا ہے اور ہمارے بھی تین جوان مارے گئے۔