More than 100 civilians killed after fall of Spin Boldak

کابل: معتبر ذرائع سے موصول اطلاع کے مطابق صوبہ قندھار کے اسپن بولدک ضلع پر طالبان کے قبضہ کے بعد نامعلوم بندوق برداروں نے 100سے زائد شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ افغان وزارت داخلہ نے اس واردات کی تصدیق کردی اور کہا کہ ان شہریوں کو بغیر کسی قصور کے ہلاک کیا گیا ہے۔افغان حکومت نے ان شہریوں کے قتل کا ذمہ دار طالبان کو ٹہرایا ہے۔

وزارت داخلہ کے ایک ترجمان میر واعظ استانک زئی نے کہاکہ ان ظالم و جابر دہشت گردوں نے پاکستان میں موجود اپنے پنجابی آقاؤں کے حکم پر اسپن بولدک میں معصوم و بے قصور عوام کے گھروں کو نشانہ بنا کر ان کے گھروں میں لوٹ پاٹ کی اور 100سے زائد افراد کو گولیون سے بھون بھی ڈالا۔استانک زئی نے کہا کہ اس واردات نے ظالم دشمن کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔

دریں اثنا قندھار صوبائی کونسل کے ایک رکن فدا محمد افغان نے کہا کہ دو نامعلوم نقاب پوش بندوق بردار ان کے دو بیٹوں محمود خان اور شیر محمد کو عید سے عین ایک روز قبل دو بجے گھر سے اٹھا کر لے گئے اور دونوںکی اگلے روز سڑک پر لاشیں ملیں ۔فدا محمد افغان نے کہا کہ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ نامعلوم بندوق بردار 380افراد کو لے کر گئے تھے اور ان میں سے جتنے لوگوں کو گولی مار کر ہلاک کیا گیاہے ان کی لاشیں وہاں پڑی ہیں۔افغان سکورٹی ایجنسیوں کے مطابق کئی شہریوں کی لاشیں اسپن بولدک میں ابھی تک زمین پر پڑی ہیں۔