PIL in SC seeking SIT probe in Pegasus spying case

نئی دہلی: ہندوستان میں پیگاسس سافٹ ویئر کے ذریعے حزب اختلاف کے لیڈران اور صحافیوں کی جاسوسی کا معاملہ اب سپریم کورٹ میں پہنچ گیا ہے۔ ایڈووکیٹ منوہر لال شرما نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ اس عرضی میں سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایس آئی ٹی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ہندوستان میں پیگاسس کی خریداری پر بھی پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ملک کے بہت سے اپوزیشن لیڈر پیگاسس جاسوسی کیس کولے کرمودی حکومت پرحملہ آور ہیں۔

کانگریس پارٹی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کی تحقیقات کا مطالبہ کررہی ہے۔ تاہم حکومت نے جاسوسی کے اس کیس کو پارلیمنٹ میں بھی مسترد کردیا ہے۔ایک بین الاقوامی میڈیا تنظیم نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی جاسوس سافٹ ویئر پیگاسس کے ذریعہ دو ہندوستانی وزراء40 سے زیادہ صحافی، حزب اختلاف کے تین لیڈران سمیت بڑی تعداد میں کاروباری افراد اور انسانی حقوق کے کارکنان کے 300 سے زیادہ موبائل نمبروں کو ہیک کیا گیا تھا۔واضح ہو کہ یہ ایک اسپائی ویئر پروگرام ہے جو آئی او ایس (ایپل) یا کسی دوسرے سسٹم کے کچھ ورژن چلانے والے ڈیوائسز پر انسٹال ہوسکتا ہے تاکہ ٹارگٹ شخص کی جاسوسی کی جاسکے اور معلوم کیا جا سکے کہ وہ اپنے موبائل فون پر کیا کررہا ہے اور اس کی فائلیں اور تمام فائلیں دیکھ سکتا ہے ۔