US indicts 9 persons associated with China's covert hunt of dissidents 

واشنگٹن: ( اے یو ایس ) امریکہ میں نو افراد پر غیر قانونی طور پر چین کے ایجنٹ ہونے کے الزام میں فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔امریکی محکمہ انصاف کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اس گروہ پر الزام ہے کہ انہوں نے امریکہ میں مقیم کچھ مخصوص افراد کی نگرانی کی۔ انہیں ہراساں کرنے کے لیے ان کے خلاف مہم چلائی، ان کا پیچھا کیا اور انہیں چین واپس لوٹ جانے کے لیے مجبور کیا۔محکمہ انصاف کے مطابق یہ اقدام چین کے بیرون ممالک مقیم شہریوں کو ماورائے قانون ملک واپس لانے کے لیے شروع کیے گئے ‘آپریشن فاکس ہنٹ’ کا حصہ ہے۔امریکی ریاست نیویارک کے ایسٹرن ڈسٹرکٹ کے لیے قائم مقام اٹارنی جیکولن کاسولس نے کہا ہے کہ “غیر رجسٹرڈ طور پر گھومنے والے غیر ملکی ایجنٹوں کو امریکہ میں مقیم شہریوں کی خفیہ نگرانی کی اجازت نہیں۔ ان کے اس غیر قانونی اقدام کا جواب امریکی قانون کی پوری طاقت سے دیا جائے گا۔”جن نو افراد پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے، ان میں 50 سالہ تو لاین، 46 سالہ زے ینگیانگ اور ہو جی اور 65 سالہ لی منجن بھی شامل ہیں۔ ان تمام افراد کا تعلق چین سے ہے۔34 سالہ ڑو فینگ بھی چینی شہری ہیں جو نیویارک شہر کے علاقے کوئینز میں رہائش پذیر ہیں۔ 53 سالہ مائیکل مک میہن ریاست نیو جرسی کے علاقے ماواہ میں رہتے ہیں۔

زینگ کونجینگ کی عمر 24 سال ہے اور ان کا تعلق نیویارک شہر کے علاقے بروکلِن سے ہے۔اسی طرح 64 سالہ ڑو یانگ المعروف جیسن ہو ریاست کنیٹی کٹ میں رہتے ہیں۔ نویں شخص کا نام اب بھی صیغہ راز میں ہے۔محکمہ انصاف کے بیان کے مطابق مذکورہ افراد چینی حکام کے کنٹرول میں ان کی ہدایات کے تحت کام کر رہے تھے اور دو افراد کو چین واپس بھیجنے کے لیے کوششیں کر رہے تھے۔امریکی محکمہ انصاف کے مطابق جن دو افراد کو چین واپس جانے کے لیے مجبور کیا جا رہا تھا، ان کے لیے چین کی حکومت نے 2012 اور 2014 میں ‘انٹرنیشل پولیس آرگنائزیشن (انٹرپول)’ سے دو ‘ریڈ نوٹسز’ بھی جاری کرائے تھے جن میں دنیا بھر کی پولیس کو مطلع کیا گیا تھا کہ یہ دو افراد چین کو مطلوب ہیں۔ان افراد پر چین میں مالی بد عنوانی اور رشوت لینے کا الزام تھا اور یہ ایسے جرائم ہیں جن کی چین میں سخت سزائیں ہیں اور انہیں ان جرائم کے تحت عمر قید یا موت کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔