Afghan forces retake key district in northern province of Balkh from Taliban

کابل: ( اے یو ایس) افغانستان کی وزارت دفاع کے ترجمان اجمل شنواری نےکہا ہے کہ افغان فوجوں نے بلخ صوبہ میں کلدار ضع کو طالبان کے قبضہ سے چھڑا لیا ۔واضح ہو کہ کلدار پر گذشتہ ماہ طالبان نے قبضہ کر لیا تھا۔اجمل شنواری نے اس دعوے کی بھی تردید کی کہ کسی افغان فوجی نے پاکستان میں پناہ لی ہے ۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے کہ ہمارے فوجی جوانوں نے کسی دوسرے ملک میں پناہ لی ہے اور وہ بھی پاکستان میں۔ افغان اور بالخصوص افغان فوج میں پاکستان کے خلاف جتنی حساسیت ہے وہ سب کو پتا ہے۔‘

دوسری جانب پاکستان کی سرحد سے متصل افغان صوبے ننگرہار کے گورنر نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے 39 ایسے جنگجوؤں کی لاشیں بین الاقوامی ادارہ ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کے حوالے کی ہیں جن کا تعلق پاکستان سے بتایا جاتا ہے۔واضح ہو کہ پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال سے متصل افغان صوبے کنڑ کے ایک فوجی کمانڈر نے اپنے 46 فوجیوں اور پانچ افسروں سمیت پاکستان میں پناہ مانگی ہے۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق پاک افغان سرحد پر بدلتی صورتحال کے باعث افغانستان کے فوجی اپنے مورچوں کا دفاع کرنے میں ناکام ہو گئے تھے اور پاکستان اس حوالے سے افغان حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے۔صحافی محمد زبیر خان کے مطابق پاکستان میں پناہ لینے والے افغان فوجی افغانستان کے صوبہ کنٹر اور پاکستان کے ضلع چترال کے بارڈر پر تعنیات تھے۔

چترال میں موجود سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ کنٹر میں افغان طالبان نے اپنا دباو¿ بڑھایا ہے اور گزشتہ کئی دونوں سے سرحد پر واقع بریکوٹ اور کالام کی افغان چوکیوں کی سپلائی لائن کو کاٹا ہوا ہے۔ ان چوکیوں پر موجود افغان اہلکاروں کو کئی روز سے راشن سمیت مختلف اشیا کی فراہمی رکی ہوئی تھی اور ذرائع کے مطابق فوجیوں کو مشکلات کا سامنا تھا۔ذرائع کے مطابق افغان اہلکار عملاً گھیرے میں تھے ان کو کوئی بھی مدد نہیں مل رہی تھی جس کے بعد انھوں نے پاکستان سے مدد طلب کی۔ چترال کے علاقے گرم چشمہ، جو سرحدی علاقے ارندو کے قریب واقع ہے، کے رہائشیوں کے مطابق سرحدی حدود پر انھیں کوئی غیر معمولی سرگرمیاں نظر نہیں آئیں تاہم چترال کی سرحد سے منسلک علاقوں میں رہنے والوں کا کہنا ہے کہ انھیں پہلے ہی بریکوٹ سمیت دیگر سرحدی علاقوں میں افغان طالبان کے پہنچنے کی اطلاعات مل رہی تھیں۔