At least 30 journalists killed in Afghanistan in just 7 months

کابل: غیر منافع بخش تنظیم این اے آئی نے افغانستان کو صحافیوں کے لئے غیر محفوظ ملک قرار دیا ہے۔ این آئی اے کی رپورٹ کے مطابق ، افغانستان میں 2021 سے اب تک یعنی 7 ماہ میں کم از کم 30 صحافی اور میڈیا اہلکار ہلاک ہو گئے ، ان کے ساتھ ہاتھا پائی کی گئی اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان میں سے بہت سے افراد کو سرکاری اہلکاروں نے دھمکی بھی دی تھی۔ خامہ پریس نے نئی رپورٹس کے حوالے سے بتایا ہے کہ حال ہی میں ، کابل میں ایک بم دھماکے میں ایک خاتون سمیت دو صحافی مارے گئے ، یہاں تک کہ مقامی صحافیوں نے بھی افغانستان کے صوبے بلخ میں سرکاری اہلکاروں کی جانب سے درکار معلومات فراہم کرانے کی شکایت کی ہے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق ، کلیڈ گروپ کے ایک صحافی کو کابل شہر کے پولیس ضلع تین میں ایک واقعے کی کوریج کرنے سے روک دیا گیا تھا اور اسے کابل پولیس نے دھمکی دی تھی ، جبکہ افغان پیس پبلی کیشن واچ کے ایک اور صحافی کی سرکاری اہلکاروں نے توہین کی۔ اس کے علاوہ افغانستان کے باور میڈیا کے 26 ملازمین کو شمالی صوبہ بلخ میں یرغمال بنا لیا گیا تھا اور نائب صدر امراللہ صالح نے میڈیا ملازمین کے ساتھ جانکاری شیئر کرنے چار ملازمین کو برطرف کردیا۔این اے آئی نے میڈیا افراد پر اجتماعی فائرنگ کی مذمت کی ہے اور اسے ملک میں مزدور قوانین کے منافی قرار دیا ہے۔ اس دوران امریکی خبر رساں اداروں کے اتحاد نے امریکی صدر جو بائیڈن اور ایوان نمائندگان کے رہنماو¿ں کو بھی دو الگ خط لکھے ہیں ، جس میں ان سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ افغان صحافیوں اور معاون عملے کو خصوصی امیگریشن ویزا فراہم کریں۔