Chinese military aircraft enters Taiwan air defence zone for 12th time this month

تائپی: چین نے ،جس کی جارحانہ پالیسیاں امریکہ ، جاپان اور تائیوان سمیت متعدد ممالک کے لئے درد سر بنی ہوئی ہیں، تائیوان کو مشتعل کرنے کے لئے ایک بار پھر اس کے دفاعی علاقے میں دراندازی کی۔ تائیوان کی وزارت دفاع کے مطابق ، چین کا ایک فوجی طیارہ اتوار کی دو پہر تائیوان کے ایئر شناختی زون میں داخل ہوا۔ اس ماہ چین کی عوامی لبریشن آرمی ایئر فورس کی یہ تائیوان میں 12 ویں در اندازی ہے۔ تائیوان کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اتوار کے روز اے ڈی آئی زیڈ کے جنوب مغربی علاقے میں پیپلز لبریشن آرمی ایئر فورس(پی ایل اے اے ایف) شانکسی وائی 8 آبدوز شکن جنگی طیارے کو ٹریک کیا تھا۔ تائیوان نے اس کے تعاقب میں اپنا طیارہ روانہ کیا اور ریڈیو الرٹ نشر کیا۔ اس کے ساتھ ہی ، وزارت نے کہا کہ تائیوان نے چینی طیارے کو ٹریک کرنے کے لئے ایک ایئر ڈیفنس میزائل سسٹم لگایا ہے۔ وزارت نے بتایا کہ اس ماہ تک ، تمام چینی طیارے سست رفتار سے اڑنے والی ٹربوپروپس رہے ہیں اور اس میں اینٹی سب میرین جنگ ، الیکٹرانک جنگ اورٹوہی کے ورڑن شامل رہے ہیں۔گذشتہ سال ستمبر کے وسط سے ، بیجنگ نے تائیوان کے اے ڈی آئی زیڈ پر باقاعدہ طیارے بھیج کر اپنی گرے زون کی حکمت عملی کو آگے بڑھا یا ہے۔ جس میں زیادہ تر مثالیں زون کے جنوب مغرب میں علاقے میں ہوتی ہیں ۔واضح ہو کہ چین تائیوان پر مکمل خودمختاری کا دعوی کرتا ہے۔ تائپے نے امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کو بڑھاکر چینی جارحیت کا مقابلہ کیا ہے ، جس کی چین بار بار مخالفت کرتا رہا ہے۔ چین نے دھمکی دی ہے کہ ‘تائیوان کی آزادی’ کا مطلب جنگ ہے۔