Pakistan's fish export hit by Chinese ban after coronavirus detected in its shipments

اسلام آباد: پاکستان کے سدا بہار دوست چین نے ایک بار پھر پاکستان کو زبردست مالی جھٹکا دیا جب اس نے پاکستان سے برآمد کی جانے والی سمندری غذا کی کھیپوں میں کورونا وائرس پائے سمندری غذا سے لدے جہازوں میں کورونا وائرس کا پتہ لگانے کے بعد مچھلی برآمدات پر پابندی کے باعث پاکستان کی سمندری غذکی ا برآمدات خطرے کی زد میں آگئی ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق ، اس وائرس کا انکشاف جنوری میں چین کو اپنی شپمنٹ میں وائرس کا پتہ چلا تھا جس کے بعد چینی افسران نے 15 بڑے برآمد کنندگان میں سے 9 فرموں پر اب عارضی طور پر پابندی عائد کری ہے۔ قادری نوری انٹر پرائزز کے ، چیف ایگزیکٹو آفیسر منظر عالم نے بتایاکہ تقریباً 50 کمپنیاں چین کو مچھلی برآمد کررہی ہیں۔ انہوں نے پابندی کی تفصیل دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایک شپمنٹ میں کورونا وائرس کا پتہ چلتا ہے تو برآمد کنندہ پر ایک ہفتے کی پابندی عائد ہوتی ہے اور چار معاملے سامنے آنے پر برآمد کنندہ کی آٹھ ہفتوں تک شپمنٹ روک دی جاتی ہے جس کی وجہ سے برآمد کنندگان کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ڈان کی خبر کے مطابق ،انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سمندری غذا کی برآمدات بحران کا شکار ہیں کیونکہ ملک کی کل مچھلی کی برآمدات میں سے 60 فیصد چین کے لئے ہے۔ عالم نے بتایا کہ باہری ڈبوں میںکورونا وائرس کا پتہ چلا ہے اور چینی حکام نے متاثرہ سامان کو تباہ کرنے یا اسے 15 دن کے لئے سنگرودھ بھیجنے کے بجائے شپنگ کمپنی کو معطل کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مسترد شدہ کھیپ پاکستان واپس آگئی ہے اور برآمد کنندگان فی کنٹینر 20 لاکھ روپے ٹیکس اور حراست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمد کنندہ گان نے اس معاملے کو مشیر تجارت عبدالرزاق داو¿د کے سامنے اٹھایا تھا ، جنہوں نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی ، لیکن اب تک اس معاملے میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ 26 ٹن مچھلی والے کنٹینر کی لاگت 70 لاکھ سے 1 کروڑ روپے ہے۔ علاقائی حریفوں کی کمائی 5 سے 8 امریکی ڈالر فی کلو گرام کے اوسط اکائی قیمت (اےیوپی ) کے مقابلے میں پاکستان مالی سال 18 سے مالی سال 21 تک 2.5 امریکی ڈالر فی کلو گرام سے کم (اے یو پی ) میں سمندری غذا برآمد کر رہا ہے۔ ڈیپ بلیو سی فوڈ لمیٹڈ کے سی ای او ایم فیصل افتخار علی نے بتایا کہ ہندوستان کو فی کلو 5- سے7 امریکی ڈالر فی کلو گرام کا اے یو پی حاصل کر رہا ہے ، اس کے بعد بنگلہ دیش 5 امریکی ڈالر اور چین 7-8 امریکی ڈالر فی کلو گرام حاصل کر رہا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق ، اوسطا ًعالمی اے یو پی AUP امریکی ڈالر فی کلوگرام ہے۔ اقتصادی سروے مالی سال 21 کے مطابق ، مچھلی کی مصنوعات کے پاکستان کے اصل خریدار چین ، تھائی لینڈ ، ملائیشیا ، مشرق وسطی ، سری لنکا اور جاپان ہیں۔