PoK polls: 'Will seek India's help' if admin fails to cooperate, says PML-N candidate

پشاور : پاکستان کے مقبوضہ کشمیر میں وزیر اعظم عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف پارٹی کی جیت کو حزب اختلاف نے یکسر خارج کردیا۔ پاکستان کے حزب اختلاف کے رہنماو¿ں) پیپلز پارٹی کے صدر بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ (ن)کی نائب صدر مریم نواز) نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی نے دھاندلی کے ذریعے الیکشن میں جیت حاصل کی ہے اور انہو ںنے اتوار کو ہوئے انتخابات کے نتائج کو مسترد کردیا۔ پی او کے اسمبلی کے آخری عام انتخابات جولائی 2016 میں ہوئے تھے اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی سربراہی میں پاکستان مسلم لیگ نواز نے اس میں جیت حاصل کی تھی۔ بھٹو نے دعوی ٰکیا کہ الیکشن کمیشن انتخابی قواعد کی خلاف ورزی کرنے پر پی ٹی آئی کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے تشدد اور دھاندلی کا سہارا لیا ہے۔ اس کے باوجود ، پیپلز پارٹی 11 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی اپوزیشن جماعت بن کر ابھری ہے ، جسے پچھلی بار تین نشستیں ملی تھیں۔ انہوں نے پارٹی کے جیتنے والے امیدواروں کی فہرست بھی شیئر کی۔ جیو نیوز کے مطابق ، مسلم لیگ(ن) کے امیدوار چوہدری محمد اسماعیل گجر نے اتوار کو دھمکی دی تھی کہ اگر مقامی انتظامیہ ان کے خدشات کو دور کرنے میں ناکام رہتی ہے تو وہ ہندوستان کی مدد طلب کریں۔ در اصل پاک مقبوضہ کشمیر کی عوام پاکستان کے مظالم سے اتنی پریشان ہوگئی ہے کہ انہوں نے پی او کے کو پاکستان سے آزاد کرانے کے لیے ہندوستان سے فریاد کی ہے۔ پاکستانی مسلم لیگ ( نواز) کے نیتا اسماعیل گجر نے بھی ہندوستان کی مودی حکومت سے پی او کے کی مدد کرنے اور اسے ہندوستان میں ضم کرنے کی اپیل کی ہے۔اس سے قبل ان کی پارٹی کے پولنگ ایجنٹوں کو ایک پولنگ بوتھ سے ہٹا دیا گیا تھا۔ پی ٹی آئی (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ انہوں نے نتائج کو قبول نہیں کیا اور انہیں کبھی قبول نہیں کریں گی۔ انہو ںنے کہا کہ میں نے نہ تو 2018 کے نتائج کو قبول کیا ہے اور نہ ہی اس فراڈ حکومت کو قبول کیا ہے۔ تاہم انہوں نے انتخابات میں پی ٹی آئی کے ذریعہ ہونے والے تشدد اور دھاندلی کے باوجود اچھی لڑائی لڑنے کے لئے مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی تعریف کی۔ پیپلز پارٹی کے نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ منظم انتخابی دھاندلی کے ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کارکنوں نے پولنگ کے دوران پی پی پی کارکن پر حملہ کیا ، جبکہ پولیس نے ان کی پارٹی کا ایک کیمپ اکھاڑ پھینکا۔ رحمان نے کہا کہ بہت سے پولنگ اسٹیشنوں کی ووٹر لسٹوں میں واضح فرق ہے۔پی ایم ایل(ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے ایک بیان میں دعوی کیا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کے لئے پی ٹی آئی کے غنڈوں نے گوجرانوالہ کے علی پور چھتہ کے علاقے میں ان کی پارٹی کارکنوں پر حملہ کیا۔ تاہم ، خطے کے الیکشن کمیشن نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات منصفانہ اور پرامن انداز میں ہوئے۔ چیف الیکشن کمشنر عبدالرشید سلیہریہ نے میڈیا کو بتایا کہ وہ انتخابی عمل سے مطمئن ہیں۔سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے رہنما راجہ فاروق حیدر نے اپنی نشست بچالی ہے۔ ایک اور سابق ‘وزیر اعظم’ اور مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق احمد خان بھی جیت چکے ہیں۔ پی او کے میں حکومت کے سربراہ کو ‘وزیر اعظم’ کہا جاتا ہے۔ پی او کے کے مختلف اضلاع کی 33 نشستوں پر کل 587 امیدواروں نے انتخاب لڑا ، جبکہ پاکستان میں آباد جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی 12 نشستوں کے لئے 121 امیدوار میدان میں تھے۔واضح ہو کہ مقامی میڈیا کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف پارٹی نے پی او کے اسمبلی کی 45 نشستوں کے لئے انتخابات میں 25 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے ، جس سے پی ٹی آئی پہلی بار پی او کے میں حکومت بنائے گی۔ سرکاری ریڈیو پاکستان نے الیکشن کمیشن کے اعلان کردہ غیر سرکاری نتائج کے حوالے سے خبر دی ہے ، پی ٹی آئی نے 25 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) 11 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی اور فی الحال اقتدار پر قابض پاکستان مسلم لیگ نواز(مسلم لیگ ن) کو ملی صرف 6 نشستیں ملی ہیں۔