Afghan VP calls Pak army 'strategic master' of terror invasion in Afghanistan

کابل: افغانستان میں طالبان کے بڑھتے ہوئے تشدد پر اشرف غنی حکومت اور پاکستان کے مابین تناو¿ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح نے ایک بار پھر پاکستان کو طالبان کی حمایت کرنے پر آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ صالح نے پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کو بھی نشانہ بنایا۔ پاکستان کو شرمندہ کرتے ہوئے صالح نے ٹویٹ کیا کہ پروپیگنڈا اسٹنٹ سے حقیقت نہیں بدلے گی اور میرے ملک میں پاکستان کی امیج نہیں سدھرے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ پاک فوج میرے ملک میں چل رہے دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور طالبان کو مدد (ہتھیار) فراہم کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردی کے حملوں کے پیچھے پاکستانی فوج کا ہاتھ ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ، پاکستانی فوج نے منگل کے روز 46 افغان فوجیوں کو افغانستان محفوظ پہنچایا ہے۔ پاکستانی فوج نے افغان فوجیوں کے ساتھ ایک کلپ بھی شیئر کی تھی۔ امراللہ صالح نے اس کلپ کو لیکر ہی پاکستان کو نشانہ بنایا ہے۔ امر اللہ صالح کے ٹویٹ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ، پاکستانی اداکارہ شہر شنواری نے بھڑکتے ہوئے لکھا کہ ہندوستانی کٹھ پتلی افغانستان کی خاطر پاکستان کو اپنی شبیہ بدلنے کی ضرورت نہیں۔ افغانستان کے عام لوگوں کی نظر میں پاکستان کی شبیہ پہلے ہی بہت واضح ہے۔ آپ کے سپاہی بھی کہہ رہے تھے کہ’ چائے بڑی مزیدار تھی ‘۔

اس سے قبل ، امراللہ صالح نے اپنے ایک بیان میں پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئی ایس آئی اور پاک فوج تمام دہشت گرد جماعتوں جیسے طالبان ، لشکر طیبہ ، القاعدہ اور مدرسہ رضاکار جیسے در اندازوں کو اسلحہ اور گولہ بارود دے کر مدد کر رہی ہے۔ اگر پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کی طرف سے آنے والی فنڈنگ کو روک دیا جائے تو طالبان چند ہفتوں میں اپنی سبقت کھودے گا۔ صرف یہی نہیں ، امراللہ صالح نے کراچی کو دہشت گردوں کا محفوظ گھر بھی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ طالبان وہاں اپنے مدرسوں میں اپنی مہم چلاتا ہے اور دہشت گردوں کو تربیت بھی دی جاتی ہے۔