China Calls US Policy 'Misguided' in High-Level Talks

بیجنگ: چین نے امریکہ سے دو طرفہ اعلیٰ سطحی مذاکرات کے دوران اس کی پالیسی کو خطرناک اورذہنیت کو گمراہ کن بتاتے ہوئے اسے بدلنے کی ضرورت پر زور دیا۔ چین کے شہر تیآنجن میں گذشتہ روز امریکہ اور چین کے درمیان اعلیٰ سطحی بات چیت کے آغاز میں ہی چین نے امریکہ پر دو طرفہ تعلقات کو اسٹیکنگ کرنے کا الزام بھی لگایا۔ سرکاری خبررساں ایجنسیژن ہوا نے اطلاع دی ہے کہ چینی نائب وزیر خارجہ شی فینگ نے امریکہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی انتہائی گمراہ کن ذہنیت اور خطرناک پالیسی کو تبدیل کرے۔ژن ہوا نے وزارت خارجہ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ شی نے امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین سے کہا کہ چین اور امریکہ تعلقات میں اس لیے زبردست تلخی ہے کیونکہ کچھ امریکی چین کو تصوراتی دشمن کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

شرمین ، چین اور امریکہ کے تعلقات کے انچارج چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ تیآنجن شہر میں واقع ریزورٹ میں بند دروازوں سے الگ الگ ملاقاتوں میں دونوں ملکوں کے درمیان تنا و¿کے تعلقات پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ جو بائیڈن کے چھ ماہ قبل امریکی ریاستہائے متحدہ کا اقتدار سنبھالنے کے بعد وہ چین کا دورہ کرنے والی اعلیٰ ترین امریکی اہلکار ہیں۔ سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دور میں دونوں ممالک کے مابین تعلقات خراب ہوئے تھے اور دونوں کے مابین ٹیکنالوجی ، سائبر سکیورٹی ، انسانی حقوق اور دیگر امور پر تنا ؤکی صورتحال ہے۔

ہفتے کے روز ایک انٹرویو میں ، وانگ نے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ خود کو بہترین سمجھے اور دوسرے ممالک پر دبا ڈالنے کے لئے اپنی طاقت کا استعمال کرے۔ بائیڈن انتظامیہ کے عہدیداروں نے کہا کہ ان مذاکرات کا مقصد کسی خاص معاملے پر تبادلہ خیال کرنا نہیں تھا ، بلکہ اعلیٰ سطح کے مکالمے کے چینلز کو کھلا رکھنا تھا۔ بائیڈن اور چین کے صدر شی جنپنگ اکتوبر کے آخر میں روم میں جی 20 سربراہی اجلاس کے موقع پر بھی ملاقات ہو سکتی ہے۔