Ex-CIA Chief Petraeus Fears Potential Civil War in Afghanistan

واشنگٹن: سی آئی اے کے سابق سربراہ ڈیوڈ پیٹراس نے افغانستان سے امریکی فوج واپس بلانے کے صدر جوزف بائیڈن انتظامیہ کے فیصلہ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے انتباہ دیا ہے کہ موجودہ صورت حال کے پیش نظر افغانستان خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے۔ مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام ایک آن لائن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پٹراس نے کہا کہ مشرق وسطی انسٹی ٹیوٹ میں ایک آن لائن کانفرنس میں ، انہوں نے افغانستان میں ناقص حکمرانی ، بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور سیاسی عدم استحکام کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مجموعی اعتبار سے امریکہ کے فوجی انخلا پر اصرار نے موجودہ صورتحال پیدا کردی ہے۔جس سے ملک میں خانہ جنگی کی آگ بھڑک اٹھے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اس مشن کی، جو ہمیں افغانستان لے گیا تھا، تکمیل کر دی ہے اور اس کے بعد بھی ہمیں وہاں رہنا پڑا۔کیونکہ ہمیں وہ پناہ گاہ ختم کرنا تھی جہاں سے القاعدہ نے 9/11حملوں کی منصوبہ سازی کی تھی اور جہاں ان حملہ آوروں کو ابتدائی تربیت دی گئی تھی۔ لیکن جس طرح افغانستان سے ہم اپنی فوج واپس بلا رہے ہیں اس سے مجھے خدشہ ہے کہ ایسا کرنے سے افغانستان میں ایسی بھیانک خانہ جنگی چھڑے گی کہ وہاں سے وسیع پیمانے پر نقل مکانی شروع ہو جائے گی اور لاکھوں افغان پناہ گزیں بن جائیں گے اور بڑے پیمانے پر خونریزی اور ہلاکتیں ہوں گی۔ان لوگوں پر قہر نازل کیا جائے گا جنہوں نے افغانستان میں ہماری موجودگی کے دوران ہماری مدد کی تھی۔