Pak's TTP maintains ties with Taliban, its 6000 terrorists still in Afghanistan

اسلام آباد: پاکستان کا دہشت گردی اور دہشت گردوں سے پیا رجگ ظاہر ہے۔ کئی پاکستانی وزرا اور میڈیا بھی اس بارے میں پول کھول چکے ہیں ،لیکن اس بار پاکستان کے سرکاری اخبار ڈان نے پاکستان کی حرکتوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کے لئے تیار کردہ ایک رپورٹ کے حوالے سے پاکستانی میڈیا ڈان نے اطلاع دی ہے کہ پاکستان میں موجود دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے طالبان کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے ہیں کیونکہ اس کے تقریباً 6000 دہشت گرد سرحد پار افغانستان کے علاقے میں ہیں۔ اقوام متحدہ کے تجزیاتی سپورٹ اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی 28 ویں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں مختلف ممالک کے دہشت گرد گروہوں کے دہشت گرد سرگرم ہیں اور ان میں سے بیشتر کا تعلق پاکستان سے ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نگرانی کرنے والی ٹیم کا تخمینہ ہے کہ غیر ملکی دہشت گرد جنگجوو¿ں کی تعداد تقریباً 8000 سے 10 ہزار کے درمیان ہو گی ، جس میں بنیادی طور پر وسطی ایشیا ، روسی فیڈریشن کے شمالی قفقاز علاقے ، ، پاکستان اور چین کے سنکیانگ اویغور خودمختار خطے کے جنگجو شامل ہیں۔ڈان کی خبر میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ، تحریک طالبان پاکستان ، صوبہ ننگرہار کے مشرقی اضلاع میں پاکستان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔واضح ہو کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے ساتھ ہی ، طالبان افغان سکیورٹی فورسز پر بھاری پڑ رہے ہیں۔ طالبان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اپنے سابقہ گڑھ قندھار سمیت دیگر اضلاع کو بھی اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔بدھ کے روز ، طالبان نے پاکستان کے ساتھ افغانستان کے ایک اہم سرحدی راستے پر قبضہ کرلیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ، یہ ان اہم مقاصد میں سے ایک ہے جس کو طالبان نے اب تک پورے ملک میں تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے حاصل کیا ہے۔