US combat forces to leave Iraq by end of year: says Biden

بغداد: ( اے یوایس) امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکہ اس سال کے آخر تک عراق میں اپنا جنگی مشن ختم کر کے فوجی واپس بلا لے گا تاہم وہ عراقی فوج کی تربیت اور مشاورت جاری رکھیں گے۔صدر بائیڈن کا یہ اعلان ان کی عراقی وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی کے ساتھ وائٹ ہاو¿س میں ملاقات کے بعد کیا گیا ہے۔اس وقت عراق میں 2500 امریکی فوجی ہیں جو کہ مقامی فوج کی دہشت گرد تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ کا مقابلہ کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ک±ل امریکی فوجیوں کی تعداد یہی رہنے کے امکانات ہیں تاہم یہ تازہ ترین اقدام عراقی وزیراعظم کی مدد کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔گذشتہ سال اہم ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد سے عراق میں امریکی موجودگی ایک مشکل معاملہ بن گیا ہے۔ایران کی حامی سیاسی جماعتوں نے تمام امریکی فوجیوں کے انخلا کا مطالبہ کر رکھا ہے حالانکہ ملک میں ابھی بھی سنی مسلک سے تعلق رکھنے والی دولتِ اسلامیہ سے خطرہ موجود ہے۔ادھر امریکہ کا دعویٰ ہے کہ شیعہ ملیشیا عراقی فوجی اڈوں پر سیکڑوں راکٹ، مارٹر، اور ڈرون حملے کرتے ہیں جس کا مقصد بظاہر غیر ملکی فوجوں پر دباو¿ ڈالنا ہے کہ وہ ملک سے واپس لوٹ جائیں۔

امریکی صدر کے لیے یہ اعلان وہ دوسری جنگ کا اختتام ہے جو کہ سابق صدر جارج بش کے دور میں شروع کی گئی تھی۔وائٹ ہاو¿س میں بات کرتے ہوئے صدر بائیڈن نے اپنے عراقی ہم منصب سے کہا کہ ’جیسے ہم اس نئے مرحلے میں داخل ہو گے، ہمارا انسداد دہشت گردی پر اشتراک جاری رہے گا۔‘اس عراقی وزیراعظم نے کہا کہ ’آج ہمارے تعلقات تاریخ میں مضبوط ترین ہیں۔ ہمارا اشتراک معیشت، ماحول، صحت، تعلیم، ثقافت اور بہت کچھ میں ہے۔‘ ان کا اصرار تھا کہ عراق میں کوئی غیر ملکی فوجی درکار نہیں ہیں۔امریکی قیادت میں غیر ملکی افواج نے 2003 میں عراق پر حملہ کیا تھا تاکہ وہ صدام حسین کو برطرف کر سکیں اور ’ویپنز آف میس ڈسٹرکشن‘ کو ختم کر سکیں مگر وہ تو عراق میں موجود ہی نہیں تھے۔پھر صدر بش نے ایک آزاد اور پرامن عراق کا دعویٰ کیا مگر وہاں پر ایک تباہ کن فرقہ وارانہ شورش شروع ہوگئی۔آخرکار 2011 میں امریکی فوجی زیادہ تر عراق سے نکل گئے تھے تاہم تین سال بعد عراقی حکومت درخواست پر وہ واپس آ گئے جب ملک کے بڑے حصوں پر دولت اسلامیہ فی العراق و الشام (داعش) نے قبضہ کر لیا تھا۔2017 میں عراق میں دولتِ اسلامیہ کی عسکری شکست کے بعد امریکہ افواج تنظیم کے دوبارہ طاقتور ہونے کو روکنے کے لیے ملک میں موجود رہیں۔1979 میں اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران کی کوشش ہے کہ امریکہ اس کے خطے سے نکل جائے اور وہ خود خطے میں اہم طاقت بن جائیں۔

تاہم اسے اپنے اس ہدف میں زیادہ کامیابی نہیں ہوئی ہے کیونکہ عرب خلیجی ممالک تہران پر عدم اعتماد کرتی ہیں اور تمام چھ کے چھ ممالک میں امریکی فوجی اڈے ہیں۔مگر امریکہ کے صدام حسین کا تختہ الٹ دینے سے ایران کے خلاف سب سے موثر رکاوٹ ہٹ گئی۔ اور ایران نے اس چیز کا خوب قائدہ اٹھ ایا ہے۔ اس نے کامیابی کے ساتھ عراقی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ میں شعیہ ملیشیا شامل کر لیے ہیں اور اس کے حامیوں کی پارلیمنٹ میں بھی ایک اہم آواز ہے۔شام میں خانہ جنگی نے ایران کی عسکری موجودگی کا دروازہ کھول دیا ہے اور ساتھ میں لبنان میں ایران حامی حزب اللہ ملک کی طاقتور ترین فورس ہے۔ایران یہاں طویل المدتی گیم کھیل رہا ہے۔ اس کے رہنماﺅں کو امید ہے کہ اگر اس سے اپنا دباو¿ طاہری اور خفیہ دونوں میدانوں میں جاری رکھا تو ایک وقت آئے گا کہ امریکہ کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں رہنے کے فوائد کم اور نقصانات زیادہ ہو جائیں گے۔اسی لیے عراق میں امریکہ کے جنگی مشن کا اختتام تہران میں ایک درست سمت میں قدم سمجھا جائے گا۔