With focus on Ladakh, Uttarakhand and Himachal, China ramps up 16 airbases

اگرچہ پچھلے سال گلوان وادی میں ہندوستان اور چین کے درمیان ہوئے خونریز تصادم کی تلخ یادوں کے درمیان دونوں ملکوں میں اب تک 12 راؤنڈ بات چیت ہوچکی ہے لیکن کشیدگی ہے کہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ اور دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان ابھی مشرقی لداخ علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔ اسی دوران چینی صدر شی جن پنگ نے اچانک تبت کا دورہ کیا جس کے بعد یہ بات دنیا کے سامنے آئی کہ چین حقیقی کنٹرول لائن پر بھاری مقدار میں فوج و اسلحہ بارود اور فوجی سازوسامان جٹانے میں لگا ہواہے ۔ اس کے ساتھ ہی بھارت سے متصل چینی علاقوں میں ایک دو نہیں بلکہ چین 16 ہوائی پٹیاں بنا رہا ہے۔ ان میںکچھ پرانے ایئر بیس ہیں جن کی چین توسیع کروا رہا ہے ، کچھ نئے ائیر بیس بنارہاہے ، ان میں سے کئی ایسے ایئر بیس ہیں کہ جن کا شہری اور فوجی دونوں طرح سے استعمال کرنے پر چین کام کر رہا ہے۔خفیہ ذرائع سے ملی خبر کے مطابق چین اس وقت جن 16 ہوائی پٹیوں پر کام کر رہا ہے ان میں زیادہ تر لداخ ، اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش کے علاوہ کچھ ہوائی پٹیاں ہندوستان ، نیپال اور تبت کی حدود کے جوڑ سے زیادہ دور نہیں ہے۔

چین اپنے فوجی استعمال کے لئے جن ایئر بیس یا ہوائی پٹیوں کی تعمیر کروارہاہے ان میں سے سب سے زیادہ اس کے جنوب- مغربی صوبے شن جیانگ میں ہیں جو ہندوستان ، پاکستان ، افغانستان اور روس کے ساتھ سرحدیں جوڑتا ہے۔یہ علاقہ لداخ سے زیادہ دور نہیں ہے ، لداخ کے پاس کا یہ وہی علاقہ ہے جہاں پچھلے ایک سال سے ہندوستان اور چین کے درمیان فوجی رسہ کشی جاری ہے۔ اس کے علاوہ چین اپنے دو نئے ایئر بیس اروناچل پردیش سے لگے اپنے علاقے میں بنا رہا ہے ، جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ ایئر بیس سال 2022تک تیار ہوجائیں گے۔چین کے ساتھ ابھی تک 12 راو¿نڈ کی بات چیت سے کوئی نتیجہ نہیں نکلا ، اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ چین ہندوستان کو باتوں میں الجھائے رکھنا چاہتا ہے وہیں دوسری طرف اپنی فوجی تیاریاں بہت تیزی سے کررہا ہے۔جب چین کی فوجی تیاریاں پوری ہوجائیںگی تب وہ ہندوستان پر حملہ کر سکتا ہے ، بھارتیہ سرحد کے قریب بنے چینی فوجی ہوائی اڈوں میں اریگنسا ، برانگ اور تاکس کورگن اہم ہیں کیونکہ انہیں فوجی استعمال کے ساتھ ساتھ شہری استعمال کے لئے بھی تیار کیاگیاہے۔ تاکس کورگن چین کے مغربی شن جیانگ صوبے میں خودمختار تاجک کاو¿نٹی ہے جو کاشغر پرفیکچرمیں بسا ہے۔یہ علاقہ چین کیلئے بہت اہم ہے کیونکہ یہ مشرقی پامیر پٹھار پر بسا یے جوکنلن ، کاراکورم، ہندوکش اور تیانشان پہاڑی دروں کے بیچ میں موجود ہے۔ اس علاقے کی سرحدیں افغانستان کے واخان درے ، تاجکستان کے گورنو-بدخشاں صوبے ، اور بھارت میں گلگت – بلتستان سے ملتی ہے۔یہاں پر چین نے اپنی ایک نئی ہوائی پٹی بنائی ہے ، 10,000 فٹ کی اونچائی پر موجود یہ ہوائی اڈہ بھارت کے سیاچین علاقے سے کافی نزدیک ہے۔تاکس کورگن ہوائی پٹی اس خطے میں بنی پہلی پٹھارئے ہو ائی پٹی ہے جسے چین بھارت کے خلاف فوجی مقاصد کے لئے استعمال کرسکتا ہے اور یہ ہوائی اڈہ بہت زیادہ جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔

چین نے اپنے مغربی کنارے پر ہوائی اڈے کی تعمیر کا کام پچھلے سال گلوان وادی میں کشیدگی کے دوران شروع کردیاتھا۔ شن جیانگ صوبہ میں چین- پاکستان سرحد کے قریب بنے اس ہوائی اڈے کو لداخ میں ہونے والی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے مقصد سے بہت اہم ماناجاتا ہے۔یہ ہوائی اڈہ چین کے لئے ایک سٹریٹجک اڈہ ہے جسے وہ جنگ کے دوران بھارت کے خلاف استعمال کرسکتا ہے۔