Pakistan based Lashkar-e-Taiba shifting base into the country, Afghan govt tells India

نئی دہلی: افغانستان میں طالبان کے برھتے تشدد کے درمیان افغان حکومت نے ہندوستان کو مطلع کیا ہے کہ پاکستان کی دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ نے اب افغانستان میں اپنے پیر جما نا شروع کر دیے ہیں اور اس کے دہشت گرد افغانستان منتقل کیے جارہے ہیں۔ جب سے امریکہ نے افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلائی ہیں ہندوستان جنگ زدہ ملک میں ان علاقوں کو جو حکومت کے زیر کنٹرول نہیں ہیں بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں نے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

افغان عہدیداروں کے مطابق پاکستان تقریباً ایک سال سے اپنے تمام دہشت گرد گروپوں کو افغانستان منتقل کرنے کی کوششوں میں لگا ہے ۔پاکستان نے یہ حرکتیں اس واقعہ کے کئی ہفتوں کے بعد جس میں ازبکستان میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی موجودگی میں پاکستان کو لعن طعن کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان سے 10000سے زیادہ انتہا پسند افغانستان میں داخل ہو چکے ہیں ۔مقامی افغان رپورٹوں کے مطابق گذشتہ چند ہفتوں کے دوران افغانستان میں جتنے بھی جہادی مارے گئے ہیں ا ن کے پاس سے پاکستانی شناختی کارڈ بر آمد ہوئے ہیں اور بہت سے طالبان انتہاپسند سرحد پار پاکستان میں زیر علاج ہیں۔علاوہ ازیں خیبر پختون خوا اور بلوچستان کے مدرسوں سے ٹیلیفون آتے تھے کہ افغانستان میں جہاد میں شامل ہو جائیں۔