Press freedom groups call to free 4 Afghan journalists arrested by gov't

کابل: (اے یوایس) آزادی پریس گروپوں نے حکومت افغانستان سے گرفتار شدہ صحافیوں کی محفوظ رہائی اور آزادی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔افغانستان میں آزاد میڈیا کی حمایت میں کھڑی ایک تنظیم این اے آئی نے ایک بیان میں کہا کہ بسم اللہ وطن دوست، قدرت سلطانی، محب عبیدی اور ثناءاللہ سیام قندھار میں شہریوں کے قتل عام کے حوالے سے طالبان کے کمانڈروں میں سے ایک سے ملنے اور اس کا انٹرویو لینے کے لیے قندھار میں طالبان کے زیر کنٹرول علاقہ جانا چاہتے تھے۔ این اے آئی نے کہا کہ ان صحافیوں کی گرفتاری کو24گھنٹے سے زائد وقت بیت چکا ہے اور ان کے بارے میں ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ کس حال میں ہیں۔ ان چاروں صحافیوں گرفتار کرنے کی افغان حکام کی کارروائی کی میڈیا اور غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے سخت نکتہ چینی کے جواب میں افغان وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ یہ قدم اس امر کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا تھا کہ صحافی محفوظ رہیں۔افغان خفیہ ایجنسی، نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی (این ڈی ایس) کے حکام نے منگل کے روز جنوبی قندھار کے اسپن بولدک میں داخل ہونے والے چار صحافیوں کو ‘دشمنوں کے لیے پروپیگنڈا’ کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ اسپن بولدک میں اس وقت افغان سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔صحافیوں کو گرفتار کرنے پر میڈیا اور غیر سرکاری تنظیموں نے افغان حکومت کی سخت تنقید کی ہے۔ افغان وزارت داخلہ نے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکام اس امر کو یقینی بنانا چاہتے تھے کہ تمام صحافی محفوظ رہیں۔

وزارت داخلہ کے نائب ترجمان حامد روشن نے کہا کہ افغانستان کی خفیہ ایجنسی نے گرفتار کیے جانے والے تمام صحافیوں کو علاقے میں جانے سے روکا تھا لیکن انہوں نے ایجنسی کے انتباہ کو نظر انداز کیا۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ صحافیوں کو علاقے میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی کیونکہ سکیورٹی فورسز ان کی جانیں بچانا چاہتی تھیں۔دوسری طرف مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ صحافی پیر کے روز اسپن بولدک سے واپس لوٹ رہے تھے۔ وہ علاقے میں حکومت کے ان دعووں کی جانچ کرنے گئے تھے کہ طالبان نے درجنوں شہریوں کا قتل عام کر دیا ہے۔ طالبان نے ان الزامات کی پہلے ہی تردید کی ہے۔افغان میڈیا پر نگاہ رکھنے والی تنظیم این اے آئی نے کہا کہ منگل کے بعد سے ان صحافیوں کے بارے میں کچھ بھی پتہ نہیں چل رہا ہے۔ تنظیم نے بتایا کہ ان میں سے تین صحافی بسم اللہ وطن دوست، قدرت سلطانی اور محب عبیدی ایک مقامی ریڈیو اسٹیشن ‘ملت زاغ’ کے لیے کام کرتے ہیں جبکہ ثناءاللہ صائم چین کی خبر رساں ایجنسی شنہوا کے کیمرہ مین کے طورپر کام کرتے ہیں۔وزارت داخلہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا،”دہشت گردوں کے حق میں اور افغانستان کے قومی مفاد کے خلاف کسی بھی طرح کا پروپیگنڈا جرم ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ صحافیوں کو ‘پروپیگنڈا’ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور سکیورٹی ایجنسیاں اپنی تحقیقات کر رہی ہیں۔طالبان کے ترجمان محمد نعیم نے دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر سے جاری ایک بیان میں ‘افغان انتظامیہ’ کے ذریعہ صحافیوں کی گرفتاری کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا،”یہ چاروں صحافی صرف اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے، واقعات کے بارے میں جاننے کی کوشش کر رہے تھے اور ان کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ حقیقت کو سامنے لانے کی کوشش کر رہے تھے۔” انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان چاروں صحافیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ ہمیں نیشنل سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے قندھار میں چار صحافیوں کی گرفتاری پر تشویش ہے۔ این اے آئی نے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے ستمبر تک امریکی فوجیوں کے انخلا کے اعلان کے بعد سے صحافیوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اس نے کہا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ حکومت اظہار رائے کی آزادی کی حمایت کرے گی۔این اے آئی کا مزید کہنا تھا کہ اگر حکومت اسی طرح (گرفتاریاں) کرے گی اور میڈیا پر پابندیاں عائد کرنا چاہتی ہے تو ہم سب سے بڑی کامیابی سے محروم ہوجائیں گے۔این اے آئی نے صحافیوں کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور ان کو فوراً رہا کرنے کا مطالبہ کیاہے۔خیال رہے کہ افغانستان میں صحافیوں کو انتہائی مشکل حالات میں کام کرنا پڑرہا ہے۔ انہیں اکثر دھمکی اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔