Recent Violence Dampens Hopes for Peace: UN Official

کابل: افغانستان میں اقوام متحدہ کی ایک سینیر عہدیدار نے کہا ہے کہ جنگ میں شدت نے امن مذاکرات کی امیدیں موہوم کر دی ہیں اور افغان حکومت اور طالبان کو مذاکرات کی میز پر واپس آجانا اور ملک میں جاری غیر معمولی تشدد کا خاتمہ کرنا چاہئے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ اسسٹنس مشن کے سینیر افسر برائے سیاسی امور لیزا ریفکے نے افغان دارالخلافہ کابل میں خواتین کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ سال ستمبر میں افغان امن مذاکرات کے آغاز سے یہ امیدیں پیدا ہو چلی تھیں کہ مذاکرات ا افغانوں ایک دوسرے کے قریب آنے کی راہیں ہموار اور گنجائش پیدا کرے گا اور فریقین امن کی راہ پر چلنے کے لیے باہم بات کریں گے۔ لیکن آج میدان جنگ میں ہونے والے اقدامات مذاکرات کو ناکام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اور حالیہ ہفتوں میں میدان جنگ میں جو کچھ دیکھا گیا ہے اس سے دوحہ میں طالبان اور اسلامی جمہوریہ افغانستان کے نمائندوں کے درمیان امن مذاکرات کے نتائج مایوس کن ہو گئے ہیں ۔

تاہم اقوام متحدہ افغان امن عمل پر عالمی اور علاقائی اتفاق رائے کے لیے کام کر رہی ہے تاکہ امن مذاکرات کو نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ امن مذاکرات میں خواتین کی موجودگی ضروری ہے۔اس موقع پر موجود خواتین نے کہا کہ گذشتہ20سال کے دوران کم از کم57ہزار خواتین نے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی ہے اور 130000سے زائد روزگار پیدا کیے ہیں۔انہوں نے افغان خواتین کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا اور کہا کہ خواتین امن عمل میں عمدہ کردار ادا کر سکتی ہیں۔