Taliban victory in Afghanistan is victory of entire Muslims: TTP leader

کابل: تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے رہنما نور ولی محسود نے کہا ہے کہ افغان طالبان سے ان کے تعلقات و رشتے اخوت،ہمدردی،بھائی چارہ اور اسلامی اصولوں پر مبنی ہیں۔ محسود نے پہلی بار ٹی وی پر نمودار ہوتے ہوئے سی ای این کو اپنے انٹرویو میں، جو پاک افغان سرحد پر کسی مقام پر لیا گیا، اس امر کا اعتراف کیا کہ افغانستان میں افغان طالبان کی کامیابی محض افغانستان تک محدود نہیں ہے بلکہ ان کی یہ کامیابی پوری دنیا کے مسلمانوں کی کامیابی اور جیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کی جیت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب تقریباً افغانستان کے نصف اضلاع پر طالبان قابض ہیں۔

قبل ازیں امریکی کمانڈر جنرل فرینک مکینزی نے کہا تھا کہ طالبان بلا وجہ اپنی فتح کا ڈھنڈورہ پیٹ رہے ہیں جبکہ ان کے خیال میں ایسا کچھ نہیں ہے ۔پاکستانی طالبان کے لیڈر کا اگرچہ یہ دعویٰ ہے کہ ان کی تنظیم کا اصل مقصد پاکستانی سلامتی دستوں سے جنگ کرنا اور اپکستانی قبائلی علاقوں پر قبجہ کرنا ہے۔انہوں نے پاکستانی سرحد سے متصل افغان علاقوں میں بھیانک خونریزی کی ہے۔ افغانستان میں ان کا نہایت خونیں حملہ 2009میں پاکستان کی سرحد سے متصل خوست صوبہ میں ایک اڈے پر تھا جس یں سات سی آئی اے افسران اور ٹھیکیدار مارے گئے تھے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان میں افغان طالبان کی نام نہاد فتح پاکستان کے لیے بھی سوہان روح بن جائے گی کیونکہ خانہ جنگی کی صورت میں افغان پناہ گزینوں کے جتھے کے جتھے پاکستان کا رخ کرنا شروع کر دیں گے۔